امریکہ کی جنگ بندی تجویز فریب ہے‘ ایران کا ردعمل‘جنگ کا27 واںدن
تہران ۔26؍مارچ ( ایجنسیز )مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 27 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور حالات مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔مختلف عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کی تعداد اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سفارتی سطح پر بھی متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو فریب قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس سے خطے میں حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت کسی بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر سکتی ہے جبکہ سفارتی راستہ تاحال بند دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً اصفہان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق شیراز کے قریب ایک رہائشی علاقے پر حملے میں دو کم عمر لڑکے جاں بحق ہوئے ہیں۔دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ امارات، سعودی عرب اور بحرین نے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر نقصانات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات بڑھنے کے ساتھ ساتھ کویت میں مبینہ طور پر حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔