جنگ بندی معاہدہ پر عمل آوری سے پاکستان کو فائدہ

   

Ferty9 Clinic

لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے کا مسلح افواج کے نمائندہ کی حیثیت سے بیان

سرینگر: جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے کا کہنا ہے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد سے پاکستان کو فائدہ ہے ۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ دراندزی کو ممکن بنانے کے لئے جب وہ (پاکستانی فوجی) جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے تھے تو انہیں بھر پور جواب دیا جاتا تھا جس کی وجہ سے اب وہ دراندازی نہیں چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری جوابی کارروائی دراندازی کو روکنے کے لئے کی جاتی تھی۔موصوف جی او سی نے ان باتوں کا اظہار ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ مختصر گفتگو کے دوران کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیز فائر کا سمجھوتہ ان (پاکستان) کے لئے فائدہ ہے ، جب دراندازی یوتی تھی تو وہ اس کو ممکن بنانے کے لئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے تھے جس کی انہیں سزا دی جاتی تھی، پاکستانی فوج کے اگلی چوکیوں پر تعینات فوجی اب دراندازی نہیں چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جوابی کارروائی دراندازی کو روکنے کے لئے کرتے تھے ۔پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے موصوف جی سی او نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک پرامن ملک کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے ، وہ یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ کشمیر کی ملی ٹنسی کی تحریک ایک مقامی تحریک ہے جس کو کوئی بیرونی مدد حاصل نہیں ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ لیکن جب تک ملی ٹنسی کی فنڈنگ، نارکو ٹریرازم، ہتھیار بھیجنے کی تار ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تب تک ہم یہ مان نہیں سکتے ہیں کہ ان کا منشا بدل گیا ہے۔ پانڈے نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق لانچنگ پیڈس پر ابھی بھی سو سے ڈیڑھ سو ملی ٹنٹ موجود ہیں جنہیں متصل علاقوں میں جانے کو کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہمارے آپریشنز حسب معمول جاری رہیں گے ۔موصوف جی او سی نے کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد کشمیر میں بدلاؤ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہاں کوئی مقامی جنگجو مارا جاتا ہے تو دوسرے لوگ بھڑکتے ہیں اور ہتھیار اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں یہ پاکستان اور دوسرے ملک مخالف عناصر کی حکمت عملی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نوجوانوں کی جنگجو تنظیموں میں بھرتی ہونے کے عمل کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس نیٹ ورک کو بھی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس کے لئے سرگرم ہے۔