واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اگر غزہ میں جنگ بندی ہو گئی تو ایران اپنے انتقامی حملے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بائیڈن نے منگل کے روز یہ خیال ظاہر کیا کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کا معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران متوقع طور پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کے منصوبے کو چھوڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کی جانب سے حملہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے عمل کو پیچیدہ بنا دے گا۔اس سے قبل پینٹاگان کے ترجمان پیٹرک رائیڈر نے کہا تھا کہ ایران حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے جواب میں رواں ہفتے کے اوائل میں اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔امریکہ نے منگل کے روز بتایا کہ وہ ابھی تک امید کر رہا ہے کہ اسرائیل اور حماس فائر بندی کے مذاکرات کو رواں ہفتے دوبارہ شروع کر دیں گے۔ ادھر قطر بھی حماس تنظیم کو بات چیت میں شرکت پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکہ، مصر اور قطر نے گذشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کو مشترکہ طور پر علانیہ دعوت دی تھی کہ وہ مذاکرات کریں۔ یہ مذاکرات جمعرات کے روز شروع ہوں گے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ودانت پٹیل کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم مذاکرات میں اپنے ملک کی شرکت کو باور کرا چکے ہیں جب کہ قطر نے تصدیق کی ہے کہ وہ حماس کی نمائندگی کی یقینی بنانے کیلئے کام کر رہا ہے۔ایک پریس کانفرنس میں پٹیل نے واضح کیا کہ فائر بندی سے یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی، انسانی امداد پہنچیں گی اور خطے کو تشدد کے دائرے سے باہر نکالنے کیلئے نئی سفارت کاری کی راہ ہموار ہو گی۔