غزہ کا انتظام کسی دوست عرب ممالک کوبھی دیاجاسکتاہے، اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی مستقل شورش جنم لیگی : ماہرین
واشنگٹن : وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ کچھ اسرائیلی فوجیں غزہ میں لڑائی کے خاتمے کے بعد سیکیورٹی معاملات کو سنبھالنے کے لیے موجود رہیں گے۔ امریکی انتظامیہ کے پاس تنازع کے خاتمے کے بعد غزہ کے مستقبل کا کوئی حتمی حل نہیں ہے۔امریکہ کی اس وقت توجہ غزہ سے تمام یرغمالیوں بالخصوص امریکیوں کو نکالنے پر ہے۔ غزہ میں امداد پہنچانے کیلئے حکمت عملی سے جنگ بندی کے وجود کے بارے میں متضاد اطلاعات کے بعد امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے پیر کو فون پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ غزہ میں پیش رفت کی اجازت دینے کے لیے تین دن تک لڑائی روکنے پر رضامند ہوجائے۔ کچھ یرغمالیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جنہیں حماس نے غزہ میں حراست میں لیا ہے۔واضح رہے کہ نیتن یاہو نے حال ہی میں امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں غزہ میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کا اشارہ دیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ اسرائیل خود کو ایک ایسے دلدل میں لے جائے گا جس میں اپنے حریف کے خاتمے کیلئے وہ مستقل حالتِ جنگ میں رہ سکتا ہے۔غزہ میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی سے کسی بھی ایسے منصوبے کے حوالے سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے جس میں غزہ کا انتظام فلسطینی اتھارٹی یا کسی دوست عرب ملک کے حوالے کیا جائے۔یہاں تک کہ اگر اسرائیل حماس کے غزہ پر 16 برس سے قائم اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کی بیشتر عسکری تنصیبات کا خاتمہ کر بھی دیتا ہے۔ تو اس کی افواج کی غزہ میں موجودگی سے ممکنہ طور پر شورش جنم لے سکتی ہے جس طرح 1967 سے 2005 کے درمیان اسرائیلی فورسز کی موجودگی کے دوران ہوا تھا۔ اس عرصے میں دو بار شورش نے جنم لیا جب کہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں حماس قائم ہوئی اور اسے مقبولیت بھی ملی۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اسرائیل کی تین رکنی جنگی کابینہ کے رکن بینی گینز نے بدھ کو تسلیم کیا کہ اب تک غزہ کے حوالے سے کوئی طویل المدتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ان کے بقول کسی بھی منصوبے پر اسرائیل کی سیکیورٹی کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوئی بھی طریقہ کار پیش کر سکتے ہیں جو ہمارے خیال میں مناسب ہو۔ البتہ حماس اس کا حصہ نہیں ہو گی۔امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا کہ نیتن یاہو نے بائیڈن کو بتایا کہ انہیں حماس کے ارادوں پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ یہ نہیں مانتے کہ وہ یرغمالیوں کے حوالے سے کسی معاہدے پر راضی ہونے کو تیار ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ اگر لڑائی تین دن تک رک جاتی ہے تو اسرائیل اس آپریشن کے لیے موجودہ بین الاقوامی حمایت کھو سکتا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کاکہنا ہے کہ نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کا ایک حصہ یہ تھا کہ حماس نے 2014 کی جنگ کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر حملہ کیا۔ ان میں سے ایک کو اغوا کیا اور متعدد کو ہلاک کیا۔ مذاکرات کی پیچیدہ نوعیت نے یرغمالیوں کو مذاکرات میں پیش رفت کرنا مشکل بنا دیا ہے۔یتن یاھو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک عارضی جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوگا جب تک یرغمالیوں کو رہا نہیں کردیا جاتا۔