حیدرآباد۔4مارچ(سیاست نیوز) دنیا بھر میں فضائی آلودگی کے سبب انسان کی اوسط حد عمر میں کمی واقع ہونے لگی ہے اور فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات جنگ سے زیادہ شمار کی جانے لگی ہیں۔ گذشتہ دنوں منظر عام پر آنے والی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ انسان کی اوسط حد عمر جو کہ 60تا65سال کا ریکارڈ رہا ہے اس میں 3برس کی گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اس کے لئے ماہرین فضائی آلودگی کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ دنیا بھر میں بیماریوں اور حادثات کے علاوہ جنگی حالات میں فوت ہونے والوں سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہوتی جا رہی ہے جو کہ فضائی آلودگی سے ہونے والی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں اور ان کے علاج کیلئے جو وقت درکار ہے وہ میسر نہیں آرہا ہے جس کے سبب ان کی اوسط عمرمیں تخفیف ہونے لگی ہے۔سال 2015 کے ریکارڈ س کے مطابق 8.8ملین افراد ایسے رہے ہیں جن کی موت کم عمر میں واقع ہوئی ہے اور ان میں بیشتر فضائی آلودگی کے سبب ہونے والی بیماریوں کا شکار رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی اوسط حد عمر میں 2.2 برس کی تخفیف ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اس کے برعکس فضائی آلودگی سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد کی حد عمر میں تخفیف ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے سبب 6 اقسام کی بیماریوں کا انسان شکار ہونے لگے ہیں جن میںپھیپڑوں کے عارضہ کے علاوہ سانس لینے میں دشواری‘پھپڑوں کے کینسر‘ امراض قلب‘اسٹروک اور دیگر شامل ہیں۔ان بیماریوں کا شکار افراد کی حد عمر میں تخفیف اور اس کے علاج کے باوجود ہونے والی دشواریوں سے محفوظ رہنے کے لئے لازمی ہے کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں اور ان اقدامات کو بہتر بنانے کیلئے شجر کاری کے ساتھ آلودگی کے خاتمہ کے لئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔رپورٹ میں فراہم کی جانے والی تفصیلات میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شہری علاقوں کی حالت دیہی علاقوں سے ابتر ہے اور شہری علاقو ںمیں پائی جانے والی فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی بدتر ہوتی جا رہی ہے جسے روکنا ناگزیر ہے۔مشرقی ایشیائی ممالک میں فضائی آلودگی سے ہونے والی بیماریوں سے فوت ہونے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور اس تعداد پر قابو پانے کے لئے سرکاری سطح پر کی جانے والی کوششوں کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ تمام ممالک فضائی آلودگی سے نمٹنے کیلئے مختلف طریقوں سے کوششوں میں مصروف ہیں لیکن سب سے زیادہ بہتر حل شجر کاری ہے اورشجر کاری کے ذریعہ ہی فضائی آلودگی پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے ساتھ شہری علاقو ںمیں پائی جانے والی آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کے سبب پینے کا پانی اور دیگر اشیاء پر بھی اس آلودگی کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ان کا بھی ابھی جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ ان کے متاثر ہونے کے انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔مجموعی اعتبار سے فضائی آلودگی کو ماہرین نے اب جنگی حالات سے تشبیہ دے دی ہے۔