جنگ نے بڑھائی عالمی غذائی تحفظ کی تشویش، قوانین میں تبدیلی ناگزیر

   

خلیجی ممالک سے سربراہی ،سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات ،انشورنس اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوا

نئی دہلی، 26 مارچ (یو این آئی) امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے ، بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی سپلائی چین میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر کے مستقبل کے غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کیلئے بھی خطرہ پیدا کر دیا ہے ۔ اس بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرینِ اقتصادیات اور مختلف حکومتیں اب عالمی زرعی تجارتی قوانین کا ازسرِ نومسودہ تیار کرنے کی تجویزپرعمل کر رہی ہیں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھٹکوں سے نمٹا جا سکے ۔ بھارتیہ ودیش ویاپار سنستھان کے سابق ڈبلیو ٹی او چیئرمین پروفیسر وشوجیت دھر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت میں آنے والی رکاوٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ توانائی، کھاد اور غذائی نظام ایک دوسرے سے کتنی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان جیسے ممالک میں کھاد کی پیداوار اور قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑا ہے ۔ ممتاز ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے مجوزہ ‘ماڈل ٹریٹی آن ایگریکلچرل ٹریڈ’ میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ موسمیاتی تبدیلی، وبا اور جنگ جیسے حالات سے نمٹنے میں نااہل ثابت ہوا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچہ شروع سے ہی ناقص تھا اور اب عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے ٹیسٹ میں ناکام پایا گیا ہے ۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً پانچواں حصہ یوریا، آدھا حصہ ڈی اے پی اور تقریباً تمام پوٹاش درآمد کرتا ہے ۔ خلیجی ممالک سے ہونے والی سپلائی اور سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث انشورنس پریمیم اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوا ہے ، جس سے کھادوں کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے ۔ حکام کے مطابق، حکومتِ ہند نے فی الحال اس جھٹکے کو کسانوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے اسے زیادہ سبسڈی کے ذریعے خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا تھا، جو ایک بڑا مالیاتی بحران بن جاتا۔ مجوزہ نئے معاہدے کا مقصد تجارت کے بجائے غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور مساوات کو ترجیح دینا ہے ۔ پروفیسر دھر کے مطابق، یہ معاہدہ حکومتوں کو ملکی پیداوار بڑھانے ، سپلائی چین میں تنوع لانے اور ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں مداخلت کرنے کا قانونی حق دینے کی وکالت کرتا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ بندی ہونے کے باوجود، آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت میں ’وار رسک پریمیم‘ مستقل طور پر شامل ہو سکتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک کیلئے توانائی اور کھاد کی قیمتیں ساختی طور پر ہمیشہ کیلئے بلند رہ سکتی ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر ہندوستان اب پوٹاش اور فاسفیٹ کیلئے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے اور غیر ملکی معدنی اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے ۔
اس کے ساتھ ہی، ملکی یوریا کی پیداوار میں توسیع اور خلیجی خطے سے باہر طویل مدتی ایل این جی معاہدوں پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ بیرونی جھٹکوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے ۔ موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب سپلائی چین بہت زیادہ ایک ہی جگہ مرکوز ہوتی ہے ، تو جھٹکے صرف مقامی نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر پھیل جاتے ہیں۔ نیا معاہدہ ان ساختی کمزوریوں کو دور کرنے اور بڑے زرعی کاروباروں پر لگام لگانے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت مل سکے ۔تجویز میں غذائی تحفظ کو “انسانیت کی مشترکہ تشویش” کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے تحت ریاستوں کو یہ حق اور ذمہ داری ہوگی کہ وہ تجارت کو محدود کر کے بھی اپنے شہریوں کے غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں، جو موجودہ آزادئ تجارت کے حامی ڈبلیو ٹی او قوانین سے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ امریکہ۔ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی تجارت کا موجودہ ڈھانچہ اب پرانے تصورات پر ٹکا ہوا ہے ۔ برلن اور برن یونیورسٹی جیسے عالمی اداروں کے محققین کی حمایت یافتہ یہ پہل آنے والی ڈبلیو ٹی او وزارتی بات چیت میں ایک اہم موضوع بننے والی ہے۔