فارما سیکٹر بحران شکار 900 اقسام کی ادویات مہنگی ۔ ادویات کی خریدی بھی عام آدمی کے لیے چیلنج
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے اثرات اب صرف پٹرولیم مصنوعات یا ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ فارما سیکٹر بھی اس سے شدید متاثر ہورہا ہے ۔ خام مال کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث ادویات کی تیاری مہنگی ہوگئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں تقریبا 900 اقسام کی ادویات کی قیمتوں میں 20 فیصد سے 186 فیصد تک اضافہ کی اطلاعات ہیں ۔ فارما انڈسٹری ذرائع کے مطابق ادویات کی تیاری میں استعمال خام مال خاص طور پر بلک ڈرگس اور ایکٹو فارما سیوٹیکل اجزاء (APIs) کی قیمتوں میں 200 سے 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔ اس کا راست اثر پیراسیٹامول ، اینٹی بائیوٹیکس ، دردکش ادویات ، انسولین و اسٹرائیڈس جیسی ضروری ادویات پر پڑرہا ہے ۔ جن کے نئے اسٹاک ک قیمتیں پہلے ہی بڑھ چکی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق مائع ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم اجزاء جیسے گلیسرین اور پرویلین گلائکول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ۔ جس سے سیرپ و اورل ڈراپس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے ۔ ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کا زیادہ اثر دائمی بیماریوں کے مریضوں پر پڑیگا جنہیں روزانہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خانگی ہاسپٹلس میں اس بوجھ کو راست مریضوں پر منتقل کرنے کا خدشہ ہے جبکہ سرکاری ہاسپٹلس میں بجٹ کی کمی کے باعث ادویات کی فراہمی متاثر ہوگی ۔ دوسری جانب ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں نے حکومت کو مکتوب روانہ کرکے معاہدے کے مطابق موجودہ قیمتوں پر سپلائی سے معذرت ظاہر کی ۔ تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حالات معمول پر آنے کے بعد وہ دوبارہ پرانی قیمتوں پر سپلائی بحال کردیں گے ۔ فی الحال میڈیکل اسٹورس پر پرانا اسٹاک پرانی قیمتوں میں فروخت ہورہا ہے۔ تاہم جیسے ہی نیا اسٹاک مارکیٹ میں آئیگا قیمتوں میں اصل اضافہ کی شدت واضح ہوجائے گی ۔ عام حالات میں ادویات کی قیمتوں میں 5 تا 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے ۔ لیکن اس بار 90 فیصد یا زیادہ اضافہ کی اطلاعات تشویشناک ہیں ۔ جملہ جنگ کے اثرات نے صحت کے شعبے میں نیا بحران پیدا کردیا ہے جسکے باعث عام آدمی کیلئے علاج معالجہ مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے ۔ 2