روش کمار
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہیکہ انہیں صرف اور صرف اسرائیل کو بچانے کی فکر ہے، دنیا کے امن کی نہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے اپنے بیانات اور اقدامات کے ذریعہ یہ بھی ثابت کردیا ہیکہ وہ اسرائیل کے تحفظ اور اس کی بقاء کو یقینی بنانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ایک بات تو ضرور ہیکہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی جارہی ہیکہ فی الوقت آخڑ کون بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ایران کیا کہہ رہا ہے اور ٹرمپ کیا کہہ رہے ہیں۔ دونوں کے بیانات کو دیکھیں گے ان کا جائزہ لیں گے تب پتہ چلے گا کہ کس کے خیمہ میں گھبراہٹ ہے، مایوسی ہے، کون بیان کا استعمال پردہ کے پیچھے چھپنے کیلئے کررہا ہے اور کون اپنے بیان کا استعمال سامنے آ کر لڑنے کیلئے کررہا ہے۔ درجنوں بار بیان بدلنے والے ٹرمپ نے پھر سے کچھ کہا ہے۔ فاکس نیوز سے ٹرمپ نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایران سے بات چیت کیلئے تیار ہوجائیں مگر اس پر منحصر ہیکہ بات چیت کی شرائط کیا ہوں گی۔ کیا یہ ٹرمپ کی ایک اور چال ہے۔ الجزیرہ نے لکھا ہیکہ ٹرمپ کے ان بیانات سے اسرائیل میں حکام فکرمند ہونے لگے ہیں کہ کہیں ٹرمپ جنگ نہ روک دیں۔ پچھلے 11 دنوں سے ایران کے سارے بیان ایک ہی لائن پر ہیں کہ ہم پیچھے نہیں ہٹنے والے۔ جب تک لڑنا ہوگا لڑیں گے۔ ایران نے کہا ہیکہ اب سے وہ جن میزائلوں کو داغنے والا ہے اس میں ایک ٹن کے وزن والے بم ہوں گے۔ ایران کے بیانات کی فہرست دیکھئے ایک لیٹر تیل جانے نہیں دیں گے۔ خلیجی ممالک امریکہ کے سفیروں کو نکال دیں تب ہی آبنائے ہرمز سے تیل لے جانے کی اجازت دیں گے۔ ہم جنگ بندی نہیں چاہتے دس سال لڑیں گے جنگ بندی چاہے تو گیارنٹی دو کبھی حملہ نہیں کریں گے۔ حملہ آوروں کے چہروں پر مکہ ماریں گے تاکہ دوبارہ حملہ نہ کریں۔ دشمن کے فوجی ٹھکانہ تباہ کرنے ہیں یہ سب ایران کی طرف سے آنے والے بیان ہیں۔ ایران کہہ رہا ہے ایک لیٹر تیل لے جانے نہیں دیں گے یعنی خلیجی ممالک کا جو اصل بزنس ہے اس کے بارے میں فیصلہ ایران کررہا ہے اور ایران نے تیل اور گیس کی پیداوار سے لیکر سپلائی چین کو بھی ٹھپ کرکے رکھ دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمیٹی اڈناک کے رویس پلانٹ پر ایران کے حملہ سے آگ لگنے کی خبر آئی یہ خلیج کی ایک سائٹ پر بنی بڑی ریفائنری ہے۔ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی ریفائنری کہی جاتی ہے۔ رائٹرس کے مطابق ڈرونس کے حملہ کے بعد اسے بند کردیا گیا ہے۔ اسی طرح کی خبر مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے آتی ہے۔ ایران بھاری نظر آتا ہے۔ یہ کافی بڑا واقعہ بنایا جاتا ہے جو تیل اور گیس کی سپلائی کا بحران اور بڑھادے گا۔ ابوظہبی کے ایک صنعتی کامپلکس پر بھی ڈرون حملہ کے بعد آگ لگنے کی خبر ہے۔ لینڈسے گراہم کہتے ہیں کہ جہاں تک میں سمجھ رہا ہوں سعودی عرب ایران کی انتہا پسند حکومت کے خلاف اپنی فوجی طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ امریکہ کو ایسے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ نہیں کرنا چاہئے جو دونوں ملکوں کے مفادات کی لڑائی میں اس کے ساتھ کھڑا بھی ہونا نہیں چاہتا۔ اس لڑائی میں امریکی مارے جارہے ہیں۔ امریکہ اربوں ڈالرس خرچ کررہا ہے۔ سعودی عرب صرف بیان دے رہا ہے۔ پیچھے سے جو کررہا ہے اس کا بہت کم فائدہ ہے۔ وہ لڑائی میں سامنے نہیں آنا چاہتا۔ خلیجی ملکوں سے لینڈسے گراہم نے سوال کیا ہیکہ اگر آپ اپنی فوجوں کا استعمال اب نہیں کریں گے تو کب کریں گے امید ہے اس میں جلد تبدیلی آئے گی نہیں تو اس کے برے انجام برآمد ہوں گے۔ یہ لینڈسے گراہم کا سوال ہے جو کافی عرصہ سے ایران پر حملہ کے حق میں رہے ہیں۔ جس ٹوئیٹ میں دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں اسے پڑھ کر یہ بھی لگ رہا ہیکہ امریکہ لاچار ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کے سامنے گڑگڑارہا ہے کہ اب تو مدد کیجئے مگر سعودی عرب ایران کے خوف سے مدد نہیں کرپارہا ہے۔ ٹرمپ کا خیمہ کافی پریشان لگ رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں امریکہ اکیلا پڑ گیا اور خلیجی ممالک ایران کے حملہ کے خدشات کے باعث امریکہ کے ساتھ کھل کر نہیں آرہے ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ کا ساتھ نہیں دے پارہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کھل کر لڑائی کے میدان میں خلیجی ممالک کیوں نہیں آپائے۔ کیا اس کے پیچھے ایران کو کچھ بھی کریڈٹ نہ دیا جائے کہ اس نے امریکہ کے اتحادیوں میں بھگدڑ مچادی ہے۔ ایران سے آنے والے بیانات میں اگر مگر جیسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ بات چیت یا پیچھے ہٹنے کو لیکر اشارہ تک بھی نہیں اب جب ایران بات چیت کی میز پر نہیں آنا چاہتا تو ٹرمپ کا ایک اور بیان ہے کہ ایران پر 20 گنا زیادہ طاقتور حملہ کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے لوگ آپ کی جھوٹی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔ آپ سے بڑے بڑے لوگ آئے اور چلے گئے لیکن ایران کے لوگوں کو ختم نہیں کرپائے۔ اس لئے محتاط رہئے۔ کہیں آپ ہی نہ ختم ہوجائیں۔ ایسا نہیں کہ ایران پر حملے نہیں ہورہے ہیں یا ایران میں تباہی نہیں ہورہی ہے لیکن ایران پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔ اس جنگ کو لیکر اس کی فوجی اور نفسیاتی تیاری ایک جیسی نظر آرہی ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ ہم 20 سال سے اس جنگ کی تیاری کررہے ہیں اور مزید 10 سال تک لڑیں گے۔ فوج کے اہم عہدہ پر انتظامیہ کے ہر عہدہ پر چار چار نائب عہدیدار پہلے سے ہی طئے ہے۔ اس پالیسی کو Fourth Succeses کہا جاتا ہے۔ خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران نے نیا سپریم لیڈر چن کر امریکہ کو جواب دیا کہ فرق نہیں پڑا۔ جگہ جگہ بڑی تعداد میں لوگ باہر آ کر نئے سپریم لیڈر کے تئیں وفاداری ظاہر کررہے ہیں۔ 4 مارچ کو ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا کہ اگر ایران اسی طرح حملے کرتا رہا تو بہت جلد اس کی بالیسٹک میزائلس ختم ہوجائیں گی۔ دو دن بعد اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے کہا کہ اسرائیل کے حملے نے ایران کے ایرڈیفنس کا 80 فیصد حصہ برباد کردیا اور اس کے 60 فیصد فیزائل لانچرس تباہ ہوچکے ہیں۔ اس بیان کے کچھ گھنٹے بعد ہی ایران نے اسرائیل پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد بھی ایران پیچھے کیوں نہیں ہٹ رہا ہے سوچئے ایران نے سرینڈر کیوں نہیں کیا؟ کیا آپ کسی ایسے ملک کو جانتے ہیں جس کا ایرفورس جنگ میں تباہ ہوجائے۔ ٹرمپ کے مطابق جس کی بحریہ پوری طرح ختم ہوجائے اس کے بعد بھی وہ ملک امریکہ اور اسرائیل کے پسینے چھڑا رہا ہے ۔ وہ طئے کررہا ہے کہ خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کی پیداوار کرنے کی شرائط کیا ہوں گی ان خبروں کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ایران امریکہ پر کیسے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اب بات کرتے ہیں عالمی سطح پر تیل اور گیس کے بحران کی۔ نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ نے دنیا بھر کے لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ حد تو یہ ہیکہ اب یہ بحران آپ کے گھر میں بھی داخل ہوگیا ہے۔ اگرچہ کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں لیکن بڑی مکاری عیاری اور ہوشیاری کے ساتھ یہ بتایا جارہا ہیکہ صرف ہوٹلیں، ریسٹورنٹس ہی متاثر ہوئے ہیں۔ سلنڈر ہی نہیں ہندوستان میں معلومات کی بھی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ کیا حکومت اور گودی میڈیا آپ کو صحیح اور بروقت معلومات فراہم کررہے ہیں۔ آپ کو کس سے پتہ چلا کہ کمرشیل سلنڈر کا ملنا بند ہوگیا ہے یا کم ہوا ہے۔ حکومت نے بتایا یا ہوٹل والوں نے خود بتایا؟ ہندوستان کے وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری 8 اور 9 مارچ کو اتنی ساری تصاویر ٹوئیٹ کرتے ہیں کہ صحافیوں سے بات چیت کی۔ آپ نوٹ کیجئے ان کی میٹنگ میں کوئی کیمرہ نہیں یعنی یہ پریس کانفرنس نہیں۔ وزیرموصوف صحافیوں کو یہی بتارہے ہیں کہ سپلائی کی پریشانی نہیں۔ ہندوستان میں سپلائی اس روٹ سے ہورہی ہے جو جنگ کے راستے میں نہیں۔ کیا وزیرموصوف کو یہ بحران نظر نہیں آیا کہ انہوں نے اسے بحران نہیں مانا جبکہ کمرشیل گیس پر کروڑوں لوگوں کا انحصار ہے۔ روزگار کیلئے بھی اور سستے کھانوں کیلئے بھی۔ 9 مارچ کو منتری جی کے ٹوئیٹ سے آپ کو پتہ نہیں چلتا ہے کہ گیس کا بحران ہے جبکہ اسی دن ہوٹلوں کی اسوسی ایشن کی طرف سے بیانات آگئے تھے کہ گیس سلنڈرس نہیں مل رہے ہیں، ہوٹلیں بند کرنا پڑسکتی ہیں۔ 9 مارچ کو ہی خبر آئی کہ گھریلو گیس سلنڈر کی بکنگ 25 دن سے پہلے نہیں لی جائے گی اور 10 مارچ کو خبر آتی ہے کہ حکومت نے گھریلو گیس اور سی این جی پر کنٹرول کیلئے ESMA نافذ کردیا ہے اور گھریلو سلنڈر پر 60 روپئے اور کمرشیل سلنڈر پر 120 روپئے بڑھادیئے گئے۔