حیدرآباد۔/20 مارچ، ( سیاست نیوز) یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کا راست اثر خوردنی تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سن فلاور آئیل یوکرین اور روس سے درآمد ہوتا ہے۔ دونوں ممالک میں جنگ کی صورتحال کے سبب تیل کی قیمتوں پر بھاری اثر پڑا ہے۔ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی کئی بڑے تاجرین نے تیل کا اسٹاک کرلیا تاکہ قیمت میں اضافہ کے بعد زائد منافع سے فروخت کرسکیں۔ کئی علاقوں میں ریٹیلر اسٹاک ختم ہوجانے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن چوری چھپے سے اولڈ اسٹاک پر موجود قیمت کی جگہ نئی قیمت لگاکر مارکٹ میں فروخت کررہے ہیں۔ اولڈ اسٹاک میں تیاری اور ایکسپائری کی تاریخ درج ہوتی ہے لیکن عوام اولڈ اسٹاک کے باوجود زائد قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ غریب اور متوسط طبقات کو تیل کی قیمت میں اضافہ سے دشواری ہوئی ہے۔ حیدرآباد اور اضلاع میں تیل کی قیمتوں میں فی لیٹر 100 روپئے سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ہول سیل میں خریدی کرنے والے ہوٹلوں اور دیگر کاروباریوں کو 15 کیلو کے کیان کی قیمت 2800 روپئے تک ادا کرنے پڑ رہی ہے۔ قیمتوں پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی نظم نہیں ہے جس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ر