نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے جن دھن اکاؤنٹ میں ’روپئے‘ اور ’یو پی آئی‘ کے لین دین کے عوض میں 254 کروڑ روپئے عام لوگوں سے وصولنے پر حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیسہ کون کھارہا ہے اور اس کا حساب دیا جانا چاہئے ۔ راہول گاندھی نے اسے جن دھن اکاؤنٹس سے کی گئی لوٹ کھسوٹ مانتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اس پیسے کو ڈکارنے والوں کے نام کا انکشاف ہوناچاہئے ۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ کون ہے جو جن دھن ’کھاتا‘ کھارہا ہے۔انہوں نے اس کے ساتھ ہی ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں آئی آئی ٹی ممبئی کے ذریعہ تیار ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ایس بی آئی نے نہیں لوٹائے جن دھن اکاؤنٹ ہولڈروں سے وصولے گئے 164 کروڑ روپئے‘‘۔اس خبر میں آگے کہا گیا ہے کہ بینک نے اپریل 2017 سے ستمبر 2020 کے دوران جن دھن منصوبہ کے تحت کھولے گئے عام بچت بینک کھاتوں سے یو پی آئی اور روپئے لین دین کے عوض میں کل 254 کروڑ روپئے سے زائد فیس وصولی گئی جس میں ہر اکاؤنٹ ہولڈر سے 17.17 روپئے بطور فیس لیے گئے۔
