اسلام آباد : ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف آج چہارشنبہ کو پاکستان کی سیول اور ملٹری قیادت سے ملاقات کر رہے ہیں۔ وہ منگل کی شب دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ اپنے دورے سے قبل انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں بظاہر پڑوسی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ 70 روز بعد چلے جائیں گے لیکن ان سب کو یہیں رہنا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ان ممالک کو اپنی سکیورٹی کیلئے باہر والوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کے لیے آگے آئیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا گزشتہ ڈھائی برس میں پاکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ وہ پچھلی مرتبہ مئی 2019 میں اسلام آباد آئے تھے۔جواد ظریف نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات، سرحدی امور اور دفاع کے معاملات زیر غور آئے، اس کے علاوہ خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ایرانی ہم منصب نے ملاقات کی جس میں اہم امور پر بات چیت کی گئی۔