جوبائیڈن کی کامیابی پر امریکہ میں جشن ، سڑکوں پر عوام کا جوش و خروش

,

   

عوام کو متحد رکھنا نئے صدر کا عزم، امریکہ کو قابل احترام بنایا جائے گا ، قوم سے خطاب
کورونا وائرس پر قابو پانے آج ٹاسک فورس کا اعلان متوقع، /20 جنوری کو حلف برداری

واشنگٹن : امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کی بھاری اکثریت سے کامیابی پر امریکہ بھر میں عوام میں جوش و خروش اور جشن کا ماحول دیکھا گیا ۔سڑکوں پر جگہ جگہ رقص و سرور کی محفلیں سجی ہوئی ہیں ۔ ہفتہ کے آخری ایام میں امریکہ میں تعطیلات کا لطف لینے والوں نے جوبائیڈن کی کامیابی کا بھی جشن منایا ۔ ان کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں ۔4 سال تک ڈونالڈ ٹرمپ کی یکطرفہ کارروائیوں اور من مانی فیصلوں بیزار عوام کو کچھ راحت نصیب ہوئی ہے ۔ بائیڈن کی فتح کے اعلان کے بعد نو منتخب صدر نے ہفتہ کی رات ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں واقع اپنی انتخابی مہم کے ہیڈکوارٹر کے باہر قوم سے خطاب کیا۔اس موقع پر نو منتخب نائب صدر کاملا ہیرس بھی بائیڈن کے ہمراہ موجود تھیں۔اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ وہ تمام امریکیوں کے صدر ہیں اور وہ امریکہ کو ایک بار پھر دنیا بھر میں قابلِ احترام بنائیں گے۔انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ان ووٹرز سے بھی ملیں جنہوں نے اْنہیں ووٹ نہیں دیا۔ اْن کے بقول وہ خود کئی بار ناکامی سے دو چار ہوئے لیکن اب ایک دوسرے کو موقع دینے کی ضرورت ہے۔بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ سخت بیان بازی کو ختم کیا جائے، درجہ حرارت کم کیا جائے، ایک دوسرے کو دوبارہ برداشت کریں اور دوبارہ ایک دوسرے کو سنیں۔یاد رہے کہ جو بائیڈن اس سے قبل بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے دو بار صدارتی الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی نامزدگی کی دوڑ میں شامل رہے ہیں جس میں اْنہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔منگل کو ہوئے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اب تک امریکہ کی 46 ریاستوں کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج آ چکے ہیں جن کے مطابق جو بائیڈن نے 279 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔اْن کے مدِ مقابل ری پبلکن امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک 214 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔ مزید چار ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں اور جو بائیڈن یہ ہدف حاصل کر چکے ہیں۔ہفتے کو اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے وہ پیر کو اپی ٹاسک فورس کا اعلان کریں گے۔جو بائیڈن 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اْن کے ہمراہ نائب صدر کاملا ہیرس بھی حلف اٹھائیں گی جو امریکی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر ہوں گی۔ کملا ہیرس اس وقت ریاست کیلی فورنیا سے منتخب سینیٹر ہیں۔ہفتے کی شب کملا ہیرس نے بھی وکٹری اسپیچ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم کی مشکور ہیں جس نے ریکارڈ ووٹ دے کر واضح پیغام دیا ہے۔ اْن کے بقول عوام نے امید، اتحاد اور شائستگی کا انتخاب کیا ہے۔ انہوںنے اپنے خطاب کے آغاز میں انسانی حقوق کے کارکن جان لوئس کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اپنی والدہ شیامالا گوپالن ہیرس اور ان تمام خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو ہجرت کرکے امریکہ آئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ میری والدہ جب ہندوستان سے امریکہ آئی تھیں تو انہوں نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ کبھی ان کی بیٹی ملک کی نائب صدر بنے گی۔ کملانے کہا کہ وہ نائب صدر بننے والی پہلی خاتون ہوں گی لیکن وہ یہ منصب سنبھالنے والی آخری خاتون نہیں ہوں گی۔ اْن کے بقول امریکہ وہ ملک ہے جہاں کچھ بھی ممکن ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے بیشتر ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی کامیابی کے اعلان کے بعد ایک بار پھر اپنی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی دوپہر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ بہت بڑے مارجن کے ساتھ صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔تاہم ٹوئٹر نے ایک بار پھر صدر کی اس ٹوئٹ پر انتباہی پیغام لگا دیا ہے کہ جس وقت یہ ٹوئٹ کیا گیا اس وقت تک حکام نے انتخابات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا تھا۔صدر ٹرمپ منگل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد سے ٹوئٹر پر اور اپنے خطابات میں مسلسل انتخابات میں اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں اور ڈیموکریٹس پر دھاندلی کے ذریعے انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔جمعے کو صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظمین نے بھی صدارتی انتخاب کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات ابھی ختم نہیں ہوئے۔