بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) سابق صدرنشین وقف بورڈ و سابق رکن قانون ساز کونسل الحاج محمد سلیم نے جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ کے تحت آج جامع مسجد ایرہ گڈہ کے مصلیوں سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ محمد سلیم نے جامع مسجد ایرہ گڈہ میں نماز جمعہ ادا کی اور مقامی افراد سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس دور حکومت میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات سے واقف کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں 10 برس تک فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا گیا ۔ تلنگانہ کو فرقہ وارانہ فسادات سے نجات دلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی گوپی ناتھ نے تمام طبقات کی ترقی کے اقدامات کئے تھے۔ ان کے دیہانت کے سبب ضمنی چناؤ ہورہا ہے جس میں بی آر ایس نے گوپی ناتھ کی بیوہ کو امیدوار بنایا ہے ۔ محمد سلیم نے اقلیتی رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ متحدہ طور پر بی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے تھے ، ان کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ اقلیتی بہبود کیلئے 4000 کروڑ بجٹ کا وعدہ کیا گیا لیکن دو برس گزرنے کے باوجود وعدہ کے مطابق بجٹ منظور نہیں ہوا ہے ۔ ائمہ اور مؤذنین چار ماہ کے اعزازیہ سے محروم ہیں۔ محمد سلیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وعدوں کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھنے والی بی آر ایس کی تائید کریں۔1