نامپلی اور ملک پیٹ سے کانگریس کامیاب ہوگی، بی جے پی اور مودی کے خلاف میری جدوجہد
حیدرآباد۔/31اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی نے مجلسی قیادت سے سوال کیا کہ وہ جوبلی ہلز اور کاماریڈی میں مسلم قائدین کے مقابلہ کے سی آر اور بی آر ایس کی تائید کس طرح کرسکتے ہیں۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ ملک پیٹ سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم قائد مظفر علی خاں، وجئے سمہا ریڈی اور دیگر قائدین کی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کی مسلم قیادت کے خلاف صدر مجلس بی آر ایس کی تائید کررہے ہیں تاکہ مسلمان جوبلی ہلز اور کاماریڈی سے منتخب نہ ہوں۔ مسلمانوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے اسد اویسی کو چاہیئے کہ وہ کاماریڈی سے محمد علی شبیر اور جوبلی ہلز سے محمد اظہر الدین کی تائید کریں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاماریڈی سے محمد علی شبیر کے خلاف مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔ صدر مجلس اسد اویسی کے سی آر کی تائید کررہے ہیں تاکہ مسلم قائد کو شکست ہو۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے راجہ سنگھ کو شکست دینے میں مجلسی قیادت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اسد اویسی کے سی آر کو گوشہ محل سے مقابلہ کی ترغیب دیں اور فرقہ پرست راجہ سنگھ کی شکست کو یقینی بنائیں۔ آر ایس ایس کے ایجنٹ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر ہم سیکولر نہ ہوتے تو نریندر مودی کے ساتھ ہوتے۔ کانگریس میں رہ کر ہم مودی اور بی جے پی کا مقابلہ کررہے ہیں تاکہ تلنگانہ میں ہندو مسلم اتحاد برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی بی آر ایس کی تائید کررہے ہیں لیکن وہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری کے بارے میں کے سی آر سے سوال کیوں نہیں کرتے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جس سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی اپنے ’ماموں‘ سے سوال کریں کہ 12 فیصد تحفظات اور ڈبل بیڈ روم مکانات مسلمانوں کو کب ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی نے اپنے والد کی روایات سے انحراف کرلیا اور کسی کے ماتحت کے طور پر کام کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو 119 اسمبلی حلقہ جات میں کاماریڈی کے سوا کوئی اور حلقہ کیوں نہیں ملا، اسد اویسی بتائیں کہ وہ مسلمان کے ساتھ ہیں یا کے سی آر کے۔ جوبلی ہلز میں 35 فیصد مسلم آبادی ہے لہذا کانگریس نے ملک کی شان میں اضافہ کرنے والے کرکٹر اظہر الدین کو ٹکٹ دیا ہے لیکن اسد اویسی نے کانگریس کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین کو استعفی کی ترغیب دی۔ کانگریس نے جان بوجھ کر جوبلی ہلز سے مسلمان کو ٹکٹ دیا تاکہ ان کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ پرانے شہر کے حلقوں سے مسلم امیدواروں کی کامیابی کی کوئی گیارنٹی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین کو مسلمانوں کو زائد ٹکٹوں کیلئے لڑنا چاہیئے تھا برخلاف اس کے اسد اویسی کے اشارہ پر کانگریس سے استعفی دے دیا۔ ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ مجلس کا ہیڈ کوارٹر دارالسلام گوشہ محل اسمبلی حلقہ کے تحت ہے لیکن مجلس اس حلقہ سے مقابلہ کیوں نہیں کرتی حالانکہ یہ حلقہ لوک سبھا حلقہ حیدرآباد کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پیٹ اور نامپلی سے مسلمان مجلس کو شکست دے کر یہ ثابت کریں گے کہ وہ مجلسی قیادت کی پالیسی سے ناراض ہیں۔