جوبلی ہلز ضمنی انتخابات ، مجلس کے موقف پر رائے دہندوں کے استفسارات

   

مجلس کے مقابلہ پر بی آر ایس کو نقصان ، کانگریس کی تائید ، ادخال پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ سے ایک دن قبل موقف کا اعلان متوقع
حیدرآباد۔15۔اکٹوبر(سیاست نیوز) جوبلی ہلز انتخابات میں مجلس کے موقف پر ابھی سے سوال اٹھائے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اگر بی آر ایس نے 10 سال کے دور اقتدار میں جوبلی ہلز کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی تھی تو 2023 اسمبلی انتخابات میں ’مجلس ‘ نے بی آر ایس کی حمایت کیوں کی گئی تھی!جوبلی ہلز کے رائے دہندوں کی جانب سے اس بات کا استفسار کیا جا رہاہے کہ جب سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے دور میں کوئی کام نہیں کئے گئے تو پھر بی آر ایس کی تائید کیوں کی گئی تھی اور اب جبکہ دو سال کے دوران کانگریس دور حکومت میں مسلمانوں کے کئی مسائل کو نظرانداز کیا جا نے لگا ہے تو ایسی صورت میں کیوں بالواسطہ طور پر کانگریس کے امیدوار کی تائید کی جار ہی ہے !واضـح رہے کہ صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے جوبلی ہلز ضمنی انتخابات میں مجلس کے موقف کی تاحال کوئی وضاحت نہیں کی ہے اور مختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی جانب سے دریافت کئے جانے پر یہ کہہ رہے ہیں کہ مجلس جلد ہی جوبلی ہلز انتخابات میں حصہ لینے کے سلسلہ میں اپنے موقف کو پیش کرے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ مجلس کی جانب سے جوبلی ہلز ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں بی آر ایس کو نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ اگر مجلسی امیدوار میدان میں ہوتو ایسی صورت میں مسلم ووٹ منقسم ہوسکتے ہیں ۔ جوبلی ہلز کے رائے دہندوں نے مجلس کے موقف پر سوال اٹھانے شروع کردیئے ہیں کیونکہ کانگریس کے امیدوار کے ساتھ مجلس کا کیڈر نظر آرہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل کانگریس کے امیدوار نوین یادو کو مجلس کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے لگی ہے اور الزام عائد کیا جار ہاہے کہ کانگریس کو مجلس کی تائید حاصل ہے حالانکہ مجلس نے تاحال ایسا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیاہے اور کئی مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بی آر ایس کی امیدوارہ ماگنٹی سنیتا کی تائید کرتے ہوئے ان کے حق میں انتخابی مہم چلائی جانے لگی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر مجلس پرچہ نامزدگی کے ادخال سے ایک یوم قبل جماعت کے موقف کے متعلق وضاحت کریں گے اور اگر جوبلی ہلز انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں جوبلی ہلز میں کس امیدوار کو مجلس کی تائید حاصل ہوگی اس پر بھی تجسس برقرار رکھا جائے گا اور باضابطہ کسی کی تائید کے بجائے پارٹی کیڈر کو حمایت کے سلسلہ میں پارٹی کے موقف کے متعلق واقف کروایا جائے گا۔3