جوبلی ہلز عصمت ریزی معاملہ، 2 کم عمر لڑکے گرفتار، 5خاطیوں کی نشاندہی

   

مزید دو نوجوان مفرور، متاثرہ لڑکی کا رومانیہ سے تعلق ، پولیس مزید مصروف تحقیقات
حیدرآباد ۔ 4 جون (سیاست نیوز) جوبلی ہلز عصمت ریزی معاملہ میں پولیس نے آج کارروائی کرتے ہوئے دو کم عمر لڑکوں کو گرفتار کرلیا اور انہیں جوینائل کورٹ میں پیش کردیا۔ لڑکی کی عصمت ریزی کے اس سنسنی خیز معاملہ میں پولیس کی جانب سے 5 خاطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم مزید تین افراد بشمول دو نابالغوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ویسٹ زون مسٹر جوئل ڈیوس نے بتایا کہ دیگر دو افراد بشمول ایک نابالغ کی گرفتاری کیلئے کوشش جاری ہے اور عنقریب انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ لڑکی کی عصمت ریزی کے معاملہ میں تحقیقات کررہی پولیس کی ٹیموں نے انوا گاڑی کو ضبط کرلیا جس میں سمجھا جارہا ہیکہ لڑکی کی عصمت ریزی کی گئی۔ پولیس اس گاڑی سے شواہد کو اکٹھا کرنے میں جٹ گئی ہے اور ان تمام راستوں کی جانچ جاری ہے جس راستہ سے گاڑی گذری ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کا تعلق رومانیہ سے بتایا گیا ہے جو تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھارت آئی تھی اور حیدرآباد کے علاقہ بنجارہ ہلز میں قیام پذیر تھی۔ لڑکی انٹر سیکنڈایئر کی طالبہ ہے اور اسی علاقہ میں رہنے والے ہادی سے لڑکی کے افراد خاندان کی جان پہچان پائی جاتی ہے۔ ہادی انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ ہادی اور اس کے ساتھی سورج نے کالج کے ساتھیوں کی پارٹی میں لڑکی کو مدعو کیا تھا۔ اس پارٹی میں خاطیوں کی لڑکی سے جان پہچان ہوئی اور لڑکی کو گھر تک ڈراپ کرنے کے بہانے کار میں بٹھا لیا۔ پہلے پب سے ایک بیکری پر توقف کے بعد انہوں نے کار بدل دی اور بیز کے بجائے انوا کار لیکر اس میں لڑکی کو بٹھا لیا۔ کار میں ہوئی غیراخلاقی حرکتوں کی ویڈیو کو بی جے پی نے جاری کیا جس میں لڑکی اور لڑکوں کے درمیان حرکتیں دکھائی گئی جس کے بعد لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کے الزامات کے تحت خاطیوں کو گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے۔ ع