حکومت مطالبات تسلیم کرنے تیار نہیں۔ متبادل انتظامات کی ہدایات جاری
حیدرآباد۔ ریاست میں جونئیر ڈاکٹرس نے خدمات کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے اور محکمہ صحت کی جانب سے جونئیر ڈاکٹرس کی خدمات کے بائیکاٹ کے ساتھ ہی روسٹر کی تیاری اور ان کی جگہ دوسرے ڈاکٹرس کے تقرر کے اقدامات کی ہدایات جاچکی ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ حکومت نے جونئیر ڈاکٹرس کے مطالبات کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی خدمات کے بائیکاٹ کے فیصلہ کے ساتھ ہی ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن نے تمام ٹیچنگ ہاسپٹلس جہاں کورونا مریضوں کا علاج جاری ہے ان میں جونئیر ڈاکٹرس کی جگہ دوسرے ڈاکٹرس کی تعیناتی کے اقدامات کی انتظامیہ کو ہدایات دی ہیں۔ جونئیر ڈاکٹرس نے 10مئی کو محکمہ صحت اور حکومت کے ذمہ داروں کو مکتوب روانہ کرکے ان کے مطالبات کی عدم یکسوئی کی صورت میں 25 مئی سے خدمات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور آج حکومت کی جانب سے اس بائیکاٹ کے پیش نظر متبادل انتظامات کے احکامات جاری کردیئے گئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ جن ٹیچنگ ہاسپٹلس میں کورونا اور غیر کورونا مریض شریک ہیں انہیں مشکلات کا آغاز ہوچکا ہے اور ان کی نگرانی کیلئے تمام دواخانوں کے انتظامیہ کو متبادل انتظامات کی ہدایا ت جاری کی جاچکی ہیں۔ جونئیر ڈاکٹرس کے نمائندو ںکا کہناہے کہ وہ گذشتہ ایک برس سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس دوران کئی مطالبات کئے گئے جن میں تنخواہوں میں اضافہ کے علاوہ جونئیر ڈاکٹرس کے افراد خاندان کو علاج کی سہولتوں کے ساتھ انہیں کورونا مریضوں کے علاج کیلئے تحفظ فراہم کیا جائے لیکن حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ مجبورہو کرخدمات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ جونئیر ڈاکٹرس کے بائیکاٹ کی صورتحال دیکھتے ہوئے بہتر متبادل انتظامات کئے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سرکاری دواخانوں میں مریضوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔