حیدرآباد۔ تلنگانہ جونئیر ڈاکٹرس نے اپنی ہڑتال اور دھرنا ختم کردیا ہے اور انہوں نے سکریٹری محکمہ صحت کے ساتھ بات چیت کی کامیابی کے بعد خدمات بھی بحال کردی ہیں۔ حالانکہ جونئیر ڈاکٹرس کے کچھ مطالبات کو حکومت کی جانب سے تسلیم کرلیا گیا ہے تاہم کچھ مطالبات کو ابھی تسلیم کیا جانا باقی ہے ۔ ریاستی حکومت کا استدلال تھا کہ کچھ مطالبات ایسے ہیں جن کا راست ریاستی حکومت سے تعلق نہیں ہے بلکہ ان کو مرکزی حکومت کے قوانین کے تحت حل کیا جاسکتا ہے ۔ جونئیر ڈاکٹرس نے کسی ڈاکٹر کی موت پر 50لاکھ اور نرس کی موت پر 25 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا مطالبہ کیا تھا جس پر ریاستی حکومت نے کہا کہ یہ مطالبات مرکزی حکومت کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ جونئیر ڈاکٹرس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر راہول اور نائب صدر ڈاکٹر سریکانت نے بتایا کہ ریاست میں کورونا بحران کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی ہڑتال ختم کردی ہے اور ڈیوٹی پر رجوع ہوچکے ہیں۔
جونیئر ڈاکٹرس کے اسٹیفنڈ میں اضافہ کے احکامات جاری
ماہانہ 80500 کی ادائیگی
حیدرآباد: حکومت نے ہڑتالی جونیئر ڈاکٹرس سے وعدے کے مطابق اسٹیفنڈ کی میں اضافہ کے احکام جاری کئے ۔ سکریٹری ہیلت سید علی مرتضی رضوی نے جی او ایم ایس 89 جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن نے سینئر ریسیڈینٹس کے اسٹیفنڈ میں 15 فیصد اضافہ کی تجویز حکومت کو پیش کی ہے جس کے تحت ماہانہ اسٹیفنڈ کو 70,000 سے بڑھا کر 80500 روپئے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ حکومت نے اس تجویز کو منظور کرتے ہوئے اسٹیفنڈ میں 15 فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ یکم جنوری 2021 ء سے اضافہ پر عمل آوری کی جائے گی ۔ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ احکامات پر عمل کریں۔