نئی دہلی : کورونا وائرس کی مہلک دوسری لہر جون 2021 ء کے پہلے ہفتہ تک ہندوستان میں اندیشہ ہے کہ روزانہ تقریباً 1750 تا 2320 مریضوں کی جان لے گی۔ لان سیٹ کووڈ۔19 کمیشن نے ایک رپورٹ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر کورونا کے روک تھام کیلئے مناسب اقدامات فوری طورپر نہیں کئے جاتے ہیں تو جون تک سنگین نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق مہاراشٹرا ، چھتیس گڑھ ، کرناٹک ، دہلی ، ٹاملناڈو ، اترپردیش ، مدھیہ پردیش اور گجرات عین ممکن ہے سب سے زیادہ متاثرہ ریاستیں رہیں گی ۔ ہندوستان میں کووڈ۔19 کی دوسری لہر اور ہنگامی اقدامات کے عنوان سے تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فبروری 2021 ء کے پہلے ہفتہ میں 11794 نئے انفیکشن سے لے کر /10 اپریل تک 1,52,565 نئے کورونا مریضوں کا سفر بڑی تیزی سے پورا ہوا ہے ۔ اموات کی شرح روزانہ نئی بلندیوں کو چھورہی ہے ۔ فبروری کے پہلے ہفتہ میں 116 کورونا مریض فوت ہورہے تھے جو بڑھتے ہوئے /10 اپریل تک 838 ہوگئے۔دوسری لہر نے 80 ہزار نئے انفیکشن کا نشانہ چھونے کیلئے 40 دن بھی نہیں لئے ۔ فبروری میں روزانہ 10 ہزار نئے کیس سامنے آرہے تھے جو تیزی سے بڑھکر اپریل میں 80 ہزار نئے کیس ہوگئے ۔ سپٹمبر میں اس کے لئے 83 یوم درکار ہوئے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق کئی پازیٹیو کیسوں میں علامتیں واضح طور پر ظاہر نہیں ہورہی ہیں یا پھر علامتوں کی شدت میں نمایاں کمی ہیں ۔ مالی اعتبار سے انڈیا کو ٹسٹ کیلئے زائد از 7.8 بلین ڈالر اور نگہداشت صحت کے سلسلہ میں سپٹمبر 2021 ء تک 1.7 بلین ڈالر کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں زائد از 2 لاکھ نئے کورونا مریض سامنے آئے جو انڈیا میں ایک دن کا ریکارڈ اضافہ ہے ۔
