جوپلی کرشنا راؤ اور سرینواس ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کا امکان

   

دونوں قائدین نے بی جے پی کی پیشکش قبول نہیںکی ، کے سی آر کے اقتدار کا خاتمہ اہم مقصد
حیدرآباد۔21۔اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے دو سرکردہ ناراض قائدین پی سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کو شامل کرنے کیلئے بی جے پی اور کانگریس نے اپنی مساعی تیز کردی ہے لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی آر ایس کے ناراض قائدین نے کانگریس میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ بی آر ایس میں طویل عرصہ سے نظر انداز کئے جاتے رہے، لہذا دونوں قائدین نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی شکست کو یقینی بنانے کیلئے کانگریس کی تائید کا من بنایا ہے۔ بی جے پی کے کئی سرکردہ قائدین نے ربط قائم کرتے ہوئے اہم عہدوں کی پیشکش کی اور انہیں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کا پیشکش کیا۔ دونوں قائدین کا ماننا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی ہی بی آر ایس کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بی جے پی ریاست بھر میں مستحکم نہیں ہے، لہذا بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کے سی آر کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ دونوں قائدین اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں الجھن کا شکار تھے لیکن خامیوں سے مشاورت کے بعد دونوں نے کانگریس کا ہاتھ تھامنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کے باوثوق ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی کی 4 یا 5 مئی کو دورہ حیدرآباد کے موقع پر کئی اہم قائدین شرکت کرسکتے ہیں۔ بی جے پی نے اشارہ دیا تھا کہ جوپلی کرشنا راؤ اور سرینواس ریڈی 23 اپریل کو چیوڑلہ میں امیت شاہ کے جلسہ عام میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ ناراض قائدین نے اپنے حامیوں سے مشاورت کی جس پر حامیوں کا کہنا تھا کہ کھمم اور محبوب نگر میں بی جے پی کا موقف مستحکم نہیں ہے ۔ کرشنا راؤ اور سرینواس ریڈی کی اولین ترجیح بی آر ایس حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنا ہے ۔ سرینواس ریڈی نے 2014 ء میں وائی ایس آر کانگریس کے ٹکٹ پر کھمم لوک سبھا حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن 2019 ء الیکشن میں کے سی آر نے ناما ناگیشور راؤ کو کھمم سے ٹکٹ دیا۔ جوپلی کرشنا راؤ کو کونسل کی رکنیت کے ساتھ کابینہ میں شامل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ دونوں قائدین طویل عرصہ سے کے سی آر سے سخت ناراض ہیں۔ پرینکا گاندھی حیدرآباد کے سرورنگر گراؤنڈ پر بیروزگار نوجوانوں کے جلسہ عام سے خطاب کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے پی سرینواس ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کی مخالفت کی ہے کیونکہ وہ کھمم لوک سبھا حلقہ کی اہم دعویدار ہیں۔ کھمم ضلع کے کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کمان کے ہر فیصلہ کو تسلیم کریں گے۔ر