کانگریس میں شمولیت پر بات چیت، سابقہ تمام قائدین کو گھر واپسی کی دعوت
حیدرآباد۔/11 جون، ( سیاست نیوز) بی آر ایس سے معطل شدہ قائدین پی سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کی کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات کے دوران آج ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ اور تلنگانہ میں اسٹار کمپینر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی قیامگاہ پر جوپلی کرشنا راؤ نے سریدھر بابو سکریٹری اے آئی سی سی اور رکن اسمبلی سے ملاقات کی۔ تینوں قائدین کی اس ملاقات کو اگرچہ خیرسگالی قرار دیا جارہا ہے لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس میں شمولیت کے پروگرام کو قطعیت دی گئی۔ سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی نے فون پر وینکٹ ریڈی اور سریدھر بابو سے بات چیت کی۔ تینوں قائدین کی ملاقات تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی جس میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کے ناموں پر بھی غور کیا گیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کرشنا راؤ 1999 میں ایک ساتھ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے تھے اور ان سے خاندانی گہرے مراسم ہیں۔ میں نے چائے نوشی کیلئے انہیں مدعو کیا تھا اور سریدھر بابو کے ساتھ موجودہ حالات پر بات چیت رہی۔ میں نے جوپلی کرشنا راؤ کو کانگریس میں شمولیت کی دعوت دی کیونکہ تلنگانہ تحریک کے دوران ہم دونوں نے عہدوں سے ایک ساتھ استعفی دیا تھا۔ وینکٹ ریڈی کے مطابق کرشنا راؤ نے غور کرنے کے بعد فیصلہ کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے تمام سابقہ قائدین اور کارکنوں کو دوبارہ گھر واپسی کی دعوت دی گئی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کرناٹک کی طرح تلنگانہ کے تمام کانگریس قائدین متحدہ طور پر پارٹی کی کامیابی کیلئے کام کریں گے۔ دیگر قائدین کی شمولیت کے بارے میں سوال پر وینکٹ ریڈی نے کہا کہ اس بارے میں کانگریس ہائی کمان فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی طرح اہم اعلانات کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ کانگریس برسراقتدار آنے پر چیف منسٹر کا پرجا دربار پروگرام بحال ہوگا۔ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ ٹی پارٹی کے دوران ہم نے کرشنا راؤ کو کانگریس میں واپسی کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کے استحکام کیلئے سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کے جلسوں کی منصوبہ بندی ہے۔ نلگنڈہ میں پرینکا گاندھی کے جلسہ عام کی تجویز ہے جس میں دیگر پارٹیوں کے قائدین شمولیت اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام بی آر ایس حکومت کو خلیج بنگال میں پھینک دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی پردیش کانگریس کمیٹی الگ ہے اور ڈپٹی چیف منسٹر شیو کمار سے شرمیلا کی ملاقات انفرادی معاملہ ہے۔ جوپلی کرشنا راؤ نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ خیرسگالی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔ کانگریس میں شمولیت سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ر