ملبورن، 14 جنوری (یو این آئی ) آسٹریلیا کے سابق ٹینس اسٹاراور ومبلڈن چمپئن پیٹ کیش نے دعویٰ کیا ہے کہ سربین اسٹار نوواک جوکووچ کے لیے اپنے کیریئرکا 25واں گرانڈ سلام جیتنا اب ایک سخت چیلنج بن چکا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر اور نوجوان کھلاڑیوں کی جارحانہ فارم جوکووچ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ پیٹ کیش کے مطابق ٹینس کی دنیا اب بدل رہی ہے ۔ اٹلی کے جینک سِنر اور اسپین کے کارلوس الکاراز جیسے نوجوان کھلاڑیوں نے کھیل کی رفتار اور طاقت کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیا ہے ۔ نوجوان کھلاڑی پانچ سیٹس کے طویل میچ کے بعد تیزی سے اگلے مقابلے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، جبکہ جوکووچ کے لیے اس عمر میں لگاتار سخت مقابلے کھیلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ پیٹ کیش نے کہا ہے کہ اب جوکووچ کو خطاب جیتنے کے لیے صرف اپنی مہارت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی انحصار کرنا ہوگا کہ بڑے حریف (سِنر اور الکاراز) کہیں غلطی کریں یا جلد باہر ہو جائیں۔کیش کے خیال میں جوکووچ کے لیے2026 میں بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ وہ چاروں بڑے ٹورنمنٹس کے سیمی فائنل تک پہنچیں، جیسا کہ انہوں نے پچھلے سال کیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ الکاراز اور سِنر جیسے کھلاڑیوں کو لگاتار پانچ سیٹ کے میچوں میں شکست دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔اگرچہ پیٹ کیش نے خدشات کا اظہار کیا ہے ، لیکن نوواک جوکووچ کا آسٹریلین اوپن میں ریکارڈ کسی کرشمے سے کم نہیں۔وہ یہاں ریکارڈ10 مرتبہ چمپئن رہ چکے ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود وہ اب بھی خطاب کے مضبوط ترین دعویدار ہیں۔گزشتہ دو برسوں 2024 اور 2025 میں بھی وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔ٹینس شائقین کی نظریں اب15 جنوری پر جمی ہیں، جب آسٹریلین اوپن کے آفیشل ڈرازکا اعلان ہوگا۔ اس ڈرا سے واضح ہوگا کہ جوکووچ کا ابتدائی راؤنڈز میں کس سے سامنا ہوگا اور فائنل تک پہنچنے کے لیے انہیں کن رکاوٹوں کو عبورکرنا پڑے گا۔