جنیوا، 17 فروری (یو این آئی) امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام پر ایران نے انکشاف کیا ہے کہ بات چیت اب تکنیکی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ایرانی وفد میں اقتصادی، قانونی اور تکنیکی ماہرین کو بھی شامل کر لیا گیا ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تکنیکی مرحلے کا مطلب پابندیوں کے خاتمے اور جوہری وعدوں سے متعلق انتظامی تفصیلات پر عملی بحث کا آغاز ہے ۔ ان کے مطابق وفد میں ماہرین کی موجودگی اور رافیل گروسی کے کردار نے مذاکرات کیلئے ضروری بنیاد فراہم کی ہے ۔ آج منگل کے روز جنیوا میں گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ مذاکرات کے تکنیکی مرحلے میں داخل ہونے کا مطلب دو بنیادی شعبوں یعنی پابندیوں کے خاتمے اور جوہری وعدوںکے حوالے سے انتظامی تفصیلات اور خصوصی نکات پر بحث کا آغاز ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی وفد میں اقتصادی، قانونی اور تکنیکی ماہرین کی موجودگی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے کردار کے ساتھ مل کر ان حساس مذاکرات کیلئے ضروری بنیاد فراہم کی ہے ۔ اسی طرح انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور گروسی کے ساتھ کثیر ملاقاتوں میں ایران کے تزویراتی نقطہ نظر اور تحفظات کی وضاحت کی گئی ہے ۔ بقائی کے مطابق آج صبح سے ان معاملات کو ثالث کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا اور بالواسطہ مذاکرات ان تفصیلات پر مرکوز رہے جن کی تصدیق اور انہیں آگے بڑھانے میں متعلقہ ادارے کی حیثیت سے ایجنسی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے آج دفاعی مسائل بشمول اپنے بیلسٹک میزائلوں پر مذاکرات سے انکار کے اپنے موقف کو دہرایا اور دباؤ کے تحت رعایتیں دینے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے نائب وزیر برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک کا وفد دفاعی مسائل پر نہیں بلکہ صرف جوہری معاملے پر مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مخالف فریق یہ وہم رکھتا ہے کہ وہ دباؤ کے ذریعے ایران سے رعایتیں حاصل کر سکتا ہے ، تو ہمیں اسے عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک وہم میں جی رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب صدر عباس مقتدائی نے کہا ہیکہ ان کا ملک حاصل ہونے والی مراعات کے بدلے معاہدے کے مطابق یورینیم کی افزودگی کی شرح کو کنٹرول کرنے کیلئے تیار ہے ۔