جوہری مذاکرات جاری رہنے کے باوجود ایرانی تیل پر پابندیاں برقرار

   

واشنگٹن : امریکہ نے چہارشنبہ کو کہا ہے کہ وہ ایران سے نئے جوہری مذاکرات کے باوجود دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت میں ملوث سات کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے باہر کی پانچ تجارتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رہا ہے جنہوں نے ایرانی نژاد پیٹرو کیمیکل مصنوعات تیسرے ممالک کو فروخت کیں اور اس کے ساتھ جہاز رانی کی خدمات فراہم کرنے والی دو فرمز پر بھی پابندی ہو گی۔سکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا، ”جب تک ایران اپنی عدم استحکام کی سرگرمیوں کی مالی اعانت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں اور پراکسیز کی حمایت کے لیے تیل اور پیٹرو کیمیکل سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، تب تک امریکہ ایران اور اس کے تمام شراکت داروں سے بھی جواب طلبی کیلئے اقدامات کرے گا۔
”ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے روم میں ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات کے چوتھے دور کا اعلان کیا جس کے فوراً بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے۔ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر ایک معاہدے کے تحت پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔ٹرمپ کے کاروباری دوست اور امریکی حکومت کے مندوب سٹیو وٹکوف مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں اور معاہدے کے لیے پُرامید ہیں جبکہ ٹرمپ ایرانی جوہری مقامات پر اسرائیلی حملے سے گریز کے لیے کوشاں ہیں۔ایران کے خلاف بڑی پابندیوں میں دوسرے تمام ممالک کو تیل کی فروخت پر پابندی لگانے کی کوشش بھی شامل ہے بالخصوص چین کے ساتھ جو ایران کے لیے ایک کلیدی منڈی ہے۔پابندیاں برقرار ہیں اگرچہ ان کا نفاذ مختلف سطحوں پر کیا گیا ہے۔