جوہر یونیورسٹی پر دھاوے، اعظم خان کے فرزند گرفتار

   

لکھنو۔31 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی قائد اعظم کے رکن اسمبلی بیٹے کو آج مبینہ طور پر سرکاری فرائض کی ادائیگی میں روکاٹ بننے کے لیے گرفتار کرلیا گیا جبکہ محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور پر دھاوے سے پارٹی کارکن احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ سماج وادی پارٹی رکن اسمبلی ایس عبداللہ اعظم کو سرکاری فراض سے روکنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے سرکاری کام میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالی تھی۔ رام پور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اجئے پائی شرما نے کہا کہ ان کے والد محمد اعظم خان محمد علی جوہر یونیورسٹی کے بانیوں اور چانسلروں میں سے ایک ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ 2500 نایاب کتابیں جو سرقہ کی گئی تھیں، یونیورسٹی کی لائبریری کو اب تک واپس حاصل نہیں ہوسکیں۔ دھاوئوں کا آغاز کل ہوا اور یہ آج بھی جاری رہے۔ نایاب کتابیں دستیاب ہوئیں۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس او پی سنگھ نے کہا کہ شخصی طور پر 2500 نایاب کتابوں اور دستاویزات پر مشتمل 50 صندوق ضبط کرلیے گئے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ معاملہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ ضبط شدہ کتابیں اور قدیم مخطوطات بیش قیمت ہیں۔ مقدمہ کی تحقیقات کا 16 جون کو آغاز ہوا تھا جب کہ پرنسپل اورینٹل کالج رامپور زبیر خان نے مقدمہ درج کروایا تھا اور ایک ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ 9000 سے زیادہ کتابوں کا جوہر یونیورسٹی کی لائبریری سے سرقہ ہوا ہے۔ مدرسہ عالیہ ڈھائی سو سال قدیم ہے لیکن اب اس کا نام جوہر یونیورسٹی ہوگیا ہے۔ عبداللہ کی حراست کی خبریں ریاستی دارالحکومت پہنچنے کے بعد ریاستی صدر نریش اتم پارٹی کے آفس پہنچے اور گورنر آنندی بین پٹیل سے راج بھون میں ملاقات کی اور اس معاملہ پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔