کابل: گذشتہ دنوں افغان طالبان کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کے منتخب صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ دوحہ میں اس سال طے پانے والی ڈیل کی شرائط پر عمل پیرا رہیں۔ طالبان کا زور افغانستان سے امریکی افواج کے مئی تک مکمل انخلاء سے متعلق شرط پر تھا۔ افغان طالبان ان دنوں کابل حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل ہیں البتہ ملک میں تشدد کی تازہ لہر بھی جاری ہے۔ رواں سال 29 فروری کو دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین ڈیل طے پائی تھی، جس میں امریکہ نے مئی تک تمام فوجی دستوں کے انخلاء اور طالبان نے پر تشدد کارروائیاں ترک کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
بائیڈن کے صدر بننے پر عہدہ چھوڑنے کا
کوئی ارادہ نہیں:ڈاکٹر فاؤجی
واشنگٹن: امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز کے ڈائرکٹر انتھنی فاؤجی نے منگل کو واضح کیا ہے کہ جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد بھی ان کا اپنا عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔مسٹر فاؤجی نے پیر کو دیر رات سی این این کو بتایا کہ انہوں نے 1984 سے چھ مختلف صدور کے دور حکومت میں کام کیا ہے اور ان کا اپنا عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔مسٹر فاؤجی نے بتایا کہ ‘‘میرا عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ یہ ایک اہم عہدہ ہے اور میرا ہدف امریکی عوام کی خدمت کرنا ہے ۔’’امریکی انفیکشن مرض کے ماہر کووڈ۔19 وبا کے مسئلہ پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کا کئی مرتبہ ٹکراؤ ہوچکا ہے ۔ مسٹر ٹرمپ نے دو نومبر کو اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ فاؤجی کو عہدے چھوڑنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالانکہ کہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ صدارتی انتخابات کے بعد ہوگا، جس میں اب مسٹر ٹرمپ ہارتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔