ٹیکہ اندازی کیلئے امریکی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش
واشنگٹن: امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن کو کورونا وائرس کی ویکسین کا پہلا ڈوز دیا جائے گا۔ کورونا ویکسین لگانے کے عمل کو بروز پیر 21 ڈسمبر کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا جائے گا تاکہ امریکی عوام میں تاثر جائے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے۔ نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کورونا ویکسین لگوانے کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ وہ ویکسین لگوانے میں جلدبازی اس لیے کر رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے۔ امریکہ میں دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کی کورونا ویکسین کی منظوری کے بعد موڈرنا کی تیار کردہ ویکسین کی ترسیل کا آج سے ہی آغاز کیا جارہا ہے۔کوروناوائرس کی وبا سے امریکہ میں 3 لاکھ سے17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اپنے فیصلہ کے بارے میں جوبائیڈن نے بتایا کہ وہ ٹیکہ اندازی کی راست ٹیلی کاسٹ کے ذریعہ امریکی عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیکہ یہ محفوظ ہے۔ نومنتخب نائب صدر کملاہیریس اور ان کے شوہر توقع ہیکہ آئندہ ہفتہ ویکسین لیں گے۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس اور ان کی اہلیہ سیکنڈ لیڈی کیرن پینس نے اپنی کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی خوراک لائیو ٹی وی پر لی۔ یہ اقدام عوام کو کورونا ویکسین کے محفوظ ہونے کی یقین دہانی کروانے کے لیے اٹھایا گیا۔ پینس اور ان کی اہلیہ نے وائٹ ہاؤس کیمپس کی آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ میں ویکسین لی۔