’جو 200 کسان مرے ہیں، وہ گھر پر رہتے تب بھی مرتے‘

   

کسان تحریک پرہریانہ کے وزیر زراعت کا متنازعہ بیان
چندی گڑھ:ہریانہ کے وزیر زراعت جے پی دلال نے کسان تحریک کے د وران شہید ہونے والے کسانوں کو لے کر انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ جے پی دلال نے بھوانی میں کہا کہ ’’یہ جو 200 کسان مرے ہیں، اگر یہ گھر پر ہوتے تو بھی مرتے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’لاکھ دو لاکھ (کسانوں) میں سے 200 چھ مہینے میں نہیں مرتے ہیں کیا؟ کوئی ہارٹ اٹیک سے تو کوئی بخار سے مر رہا ہے۔‘‘ وزیر زراعت کے اس بیان پر کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انھیں جلد از جلد کابینہ سے برخاست کیا جائے۔مرکزی حکومت نے 3 زرعی قوانین کے خلاف ہریانہ اور پنجاب کے کسان گذشتہ 2 ماہ سے بھی زیادہ عرصہ سے دہلی کی سرحدوں پر سخت سردی میں احتجاج کررہے ہیں ۔ اس دوران تقریباً 2 سو کسانوں کی مختلف وجوہات کی بناء پر موت واقع ہوئی ہے ۔ کسانوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور وہ قوانین کی منسوخی کے اپنے مطالبے پر اٹل ہے۔