فوری خدمات بحال کرنے اور میناریٹی اسکولس میں ہر روز دو گھنٹے تربیت فراہم کرنے ملازمین کو ہدایت
جگتیال۔/26 جون ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع کلکٹر اے شرت نے ضلع جگتیال میں واقع اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریوں کے ملازمین کو کلکٹریٹ طلب کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور فوری کمپیوٹر سنٹرس کو بحال کرنے اور کمپیوٹر ٹریننگ فراہم کرنے کے علاوہ ہر روز دو گھنٹے اقلیتی مدارس پہنچ کر کمپیوٹر کی تربیت دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کمپیوٹر انسٹرکٹرس اور دیگر عملے کو نئے اضلاع کے قیام کے بعد کمپیوٹر سنٹرس کو بند کرتے ہوئے خالی بیٹھ کر تنخواہیں حاصل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا بھی انتباہ دیا۔ واضح رہے کہ اردو اکیڈیمی کمپیوٹر سنٹرس کی علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اس جانب کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اردو اکیڈیمی کمپیوٹر سنٹر اور لائبریریز میں برسر خدمت ملازمین کو محکمہ اقلیتی بہبود میں مختلف عہدوں پر فائز کیا گیا جس کی وجہ سے کمپیوٹر سنٹر اور لائبریریاں برائے نام باقی رہ گئی ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے حکومت ان ملازمین کو بٹھاکر تنخواہیں فراہم کررہی ہے۔ اگر کمپیوٹر سنٹرس کو چلایا جاتا تو اقلیتی طلباء کو فائدہ ہوتا، بجائے اس کے اس کو مکمل بند رکھا گیا۔ اسٹاف برائے نام اپنی مرضی سے کمپیوٹر سنٹرس کو چلا کر کچھ وقت گذاری کرکے واپس لوٹ رہا ہے۔ سابق میں چھ چھ ماہ تک تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ گزشتہ تین ماہ سے انہیں آن لائن حاضری بائیو میٹرک رکھا گیا اور ہر ماہ باقاعدہ تنخواہیں بھی جاری کی جارہی ہیں۔ جگتیال ضلع میں جگتیال مستقر پر ایک کمپیوٹر سنٹر اور کورٹلہ منڈل پر ایک کمپیوٹر سنٹر اور مٹ پلی ڈیویژن پر ایک کمپیوٹر سنٹر ہے۔ اور دھرم پوری منڈل میں ایک اردو اکیڈیمی لائبریری ہے۔ جگتیال کمپیوٹر سنٹر سے دو کمپیوٹر انسٹرکٹرس اور ایک اٹینڈر کو میناریٹی ویلفیر آفس میں منتقل کردیا گیا جہاں پر صرف ایک انسٹرکٹر خاتون ہے جبکہ اردو لائبریری میں ایک لائبریرین اور ایک اٹینڈر ہے ۔ اردو لائبریری میں تقریباً 3 سال سے برقی بل ادا نہ کرنے پر تقریباً 7 ہزار روپئے بقایاجات کے باعث برقی کنکشن منقطع کردیا گیا۔ ضلع کلکٹر کے علم میں اس بات کو لانے پر انہوں نے انچارج ڈی ایم ڈبلیو کو فوری میناریٹی ڈپارٹمنٹ سے بل ادا کرنے کا حکم دیا اور فرنیچر کی فراہمی کی بھی ہدایت دی۔ کورٹلہ کمپیوٹر سنٹر پر تین انسٹرکٹرس اور ایک اٹینڈر ہے اور مٹ پلی میں بھی دو کمپیوٹر انسٹرکٹرس اور ایک اٹینڈر اور دھرم پوری لائبریری میں ایک لائبریرین اور ایک اٹینڈر ہے۔ یعنی جملہ 12 افراد پر مشتمل اسٹاف کمپیوٹر سنٹر بند رہنے پر بغیر کسی کام کے حکومت سے تنخواہیں حاصل کررہا ہے۔ ضلع کلکٹر نے انہیں کمپیوٹر سنٹرس کو بحال کرنے کی بات پر ہمیں اعلیٰ عہدیداران سے کوئی ہدایت اور احکامات جاری نہ ہونے سے بند کرنے کی بات پر انہوں نے سخت الفاظ میں ضلع کلکٹر کی حیثیت سے میں آرڈرس دے رہا ہوں کہ تمام اسٹاف ہرروز دو گھنٹے اقلیتی اقامتی مدارس پہنچ کر طلباء و طالبات کو کمپیوٹر کی تربیت فراہم کرنے اور کمپیوٹر سنٹرس میں دوبارہ جتنے بھی طلباء آئیں انہیں کمپیوٹر کلاسیس لینے کا حکم دیا ۔ کسی قسم کی کوتاہی یا لاپرواہی پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔
