مسلم طبقہ میں ہلچل، پولیس کی بھاری جمعیت تعینات، خاطیوں کو گرفتار کرنے ضلع ایس پی کا تیقن
جگتیال : جگتیال میں مکان کے پڑوسی کے درمیان معمولی سی جھگڑے میں اکثریتی فرقہ کے دو نوجوانوں نے اقلیتی طبقہ کے شخص کی جان لے لی۔ شہر کے مسلم طبقہ میں ہلچل مچ گئی۔ پولس اسٹیشن اور ایریا ہاسپیٹل پر دیکھتے ہی دیکھتے مسلم نوجوانوں کا ہجوم جمع ہوگیا شہر میں دو یوم قبل ٹوپی ڈاڑھی والے مسلم نوجوان کا نام پوچھ کر قاتلانہ حملہ اور گزشتہ رات مسلم شخص کی اکثریتی طبقہ کے نوجوانوں کے ہاتھ موت پر شدید ناراضگی اور برہمی کو دیکھتے ہوئے پولس کے اعلی آفسران ضلع یس پی سندھو شرما ایڈیشنل یس پی سریش کمار اور ڈی یس پی وینکٹ رمنا غوث بابا اے آر ڈی یس پی پرتاب اور پولس سب انسپیکٹران اور سی آر پی یف اور دیگر پولس کی بڑی تعداد میں فورس کو طلب کرلیا گیا رات دیر گیے پولس کمشنر رام گنڈم ستیہ ناراینا مورتی جگتیال پہنچ گیے متوفی کی بیوہ اور جوان سال لڑکی کی شکایت پر پولس نے دو خاطیوں کو گرفتار کرنے اور انکے خلاف 302 سیکشن کے تحت مقدمہ درج کرنے اور دیگر ملوث افراد کو بھی گرفتار کرنے کا ضلع یس پی سندھو شرما نے تیقن دیا اور مسلمانوں کو افواہوں پر توجہ نہ دینے صبرو تحمل سے کام لینے کی خواہش کی، پولیس کا تعاون کی خواہش کی ، اکثریتی علاقے میں واحد مسلم مکان محمد سلیم برسوں سے مقیم ہے سلیم کو دو جواں سال بیٹیاں اور ایک معصوم لڑکی ہے مکان سے متصل پڑوسی یس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والا ڈی سرینیواس نامی نوجوان کی اوچھی حرکت پر محمد سلیم کے درمیان تین یوم قبل آپس میں بحث و تکرار ہوئی۔ سلیم نے آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنے کی سرنیواس کو انتباہ دیا تھا گزشتہ رات ساڑھے سات بجے کے درمیان سلیم اپنے گھر لوٹنے پر سرینواس نے مکان کے بازو حالت نشے میں کھڑا دیکھکر کیوں کھڑا دریافت کرنے پر بحث و تکرار ہوگئی جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیا جس پر سرینواس کا رشتہ دار ین لکشمن نے سلیم پینٹر پر حملہ کرتے ہویے دھکیل دیا سلیم پتھر پر گرپڑا جس کے نتیجے میں سلیم کے سر پرگہرہ زخم آنے سے برسر موقع ہلاک ہوگیا، لکشمن اور سرینواس نے ہی سلیم کو سرکاری دواخانہ منتقل کرنے پر ڈاکٹروں نے مردہ قراردیا۔ اس واقعہ کی اطلاع شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ نعش کو بعد پوسٹ مارٹم صبح رشتہ داروں کو حوالے کیا گیا اور بعد نماز ظہر نماز جنازہ اور آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ تدفین سے قبل قبرستان پر بھی پولس کی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی۔ مسلم مرکزی کمیٹی صدر میر کاظم علی کے علاوہ محمود علی افسر اور محمد مجیب الدین مکثر علی نہال محمد رحیم صدر مسجد قمر کے علاوہ اردو میڈیہ کے صحافیوں نے بھی یس پی اور ڈی یس پی سے بات کی میر کاظم علی نے مرحوم کے ساتھ انصاف اور متوفی کے افراد خاندان کو 30 لاکھ روپیے ایکسگریشیا کا مطالبہ کیا۔