جگدیپ دھنکڑ لاپتہ … بہار میں راہول کی بَہار

   

امیر شہر کا نشہ اترنے والا ہے
مودی کی ڈگری … کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

رشیدالدین
میری زندگی کھلی کتاب ہے۔ میں نے کوئی پڑھائی نہیں کی۔ اسکولی تعلیم گاؤں میں ہوئی ، اس کے بعد کوئی تعلیم نہیں ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے یہ الفاظ ہیں جو الگ الگ موقع پر ادا کئے گئے ۔ نریندر مودی کی تعلیمی ڈگری کے تنازعہ کے پس منظر میں ہمیں وزیراعظم کے بیانات یاد آگئے جن کی گونج سوشیل میڈیا میں سنائی دے رہی ہے ۔ نریندر مودی کو خود بھی یاد نہیں ہوگا کہ انہوں نے عوام کو خوش کرنے کیلئے کب کیا کہا تھا۔ بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لاکر ہر شہری کو 15 لاکھ تقسیم کرنے کے مودی کے وعدہ کو امیت شاہ نے انتخابی جملہ قرار دے کر ختم کردیا ۔ 100 دن میں مہنگائی کے خاتمہ اور ہر سال دو کروڑ روزگار کے وعدے بھی جملہ ثابت ہوئے۔ دراصل انتخابی جملہ بازی کے نریندر مودی ماہر ہیں اور ان کا ہر وعدہ یا اعلان محض وقتی طور پر ہوتا ہے ۔ تلنگانہ میں ریالی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ ’’میری زندگی کھلی کتاب ہے‘‘ یہ جملہ سننے کیلئے تو ٹھیک ہے لیکن حقیقت میں نریندر مودی کی زندگی اور سیاسی کیریئر تضادات اور تنازعات سے پر ہے۔ ابتدائی زندگی سے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے تک کے حالات پر نریندر مودی کے بیانات مختلف ہیں۔ ان دنوں نریندر مودی کی ڈگری عوام کیلئے دلچسپی کا باعث بن چکی ہے کیونکہ دہلی ہائی کورٹ نے وزیراعظم کی ڈگری کو برسر عام کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ دہلی یونیورسٹی نے مودی کی ڈگری کو چھپانے کیلئے تقریباً 9 سال تک مقدمہ لڑا اور ظاہر ہے کہ مقدمہ پر بھاری خرچ تو ہوا ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب زندگی کھلی کتاب ہے تو پھر تعلیمی ڈگری بتانے میں اعتراض کیوں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب گاؤں میں اسکولی تعلیم کے بعد کوئی تعلیم نہیں ہوئی تو پھر بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں کہاں سے آگئیں ۔ آخر کونسا بیان سچ ہے ؟ جس طرح اعزازی طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی جاتی ہے ، کہیں بی اے اور ایم اے کی ڈگری بھی اعزازی تو نہیں ؟ اگر واقعی پڑھ کر دونوں ڈگریاں حاصل کی گئیں تو پھر عوام کے روبرو پیش کرنے میں اعتراض یا خوف کیوں ہے۔ عدلیہ کے ذریعہ ڈگری کو برسر عام کرنے سے بچ جانا کئی سوال کھڑے کرتا ہے ۔ ضرور کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے یا یوں کہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے ورنہ ڈگری پر راز کے پردے نہیں ہوتے۔ دہلی ہائی کورٹ نے نریندر مودی اور سمرتی ایرانی کی ڈگریوں کو برسر عام کرنے کے خلاف فیصلہ سنایا ۔ قومی آر ٹی آئی کمیشن نے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی تھی کہ مودی کی بی اے ڈگری کی تفصیلات درخواست گزار کو جاری کی جائیں۔ 1978 میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے والے تمام امیدواروں سے متعلق موجود رجسٹر دکھایا جائے۔ دہلی یونیورسٹی نے ان احکامات کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور 24 جنوری 2017 کو ہائی کورٹ نے انفارمیشن کمیشن کے احکامات پر روک لگادی۔ دہلی یونیورسٹی نے 9 سال تک مقدمہ لڑا اور گزشتہ دنوں ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ نریندر مودی کی ڈگری کو برسر عام کرنا عوامی دلچسپی کا معاملہ نہیں ہے، لہذا ڈگری عوام کیلئے جاری نہیں کی جاسکتی۔ نریندر مودی نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے اور گجرات یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ سمرتی ایرانی کی 11 ویں اور 12 ویں جماعت کی ڈگری پر شبہات ظاہر کئے گئے لیکن دہلی ہائی کورٹ نے آر ٹی آئی کمیشن کے خلاف فیصلہ سنایا۔ مودی ہوں یا سمرتی ایرانی جب ڈگری حقیقی اور اصلی ہے تو پھر عوام کے روبرو پیش کرنے سے خوفزدہ کیوں ہیں۔ سیاستداں الیکشن کے وقت الیکشن کمیشن کو حلفنامہ میں اپنی نجی زندگی ، بیوی بچوں ، تعلیمی قابلیت ، تمام کے اثاثہ جات اور مقدمات کی تفصیلات پیش کرتے ہیں لیکن عدالت میں یہ معاملہ اچانک نجی اور شخصی ہوگیا۔ اروند کجریوال نے 2016 میں مودی کی بی اے اور ایم اے کی ڈگریوں کے جعلی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس پر مئی 2016 میں امیت شاہ اور ارون جیٹلی نے دونوں ڈگریاں میڈیا کے سامنے پیش کی تھیں۔ بی اے کی ڈگری میں کامیابی کا سال اور مودی کا نام غلط درج تھا جبکہ ایم اے کی ڈگری میں جو Subject درج کیا گیا وہ Entire Political Science تھا جبکہ کسی بھی یونیورسٹی میں اس نام کا کوئی کورس نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1978 میں ڈگری ہاتھ سے لکھی جاتی تھی لیکن نریندر مودی کی ڈگری کمپیوٹرائزڈ ہے جبکہ اس وقت کمپیوٹر کا وجود نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں کلاس میٹس اور بیاچ میٹس ہوتے ہیں لیکن مودی کا کوئی کلاس میٹ اور بیاچ میٹ نہیں ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے کئی سابق طلبہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیاچ میں مودی نہیں تھے۔ کہیں یہ ووٹ چوری کی طرح ڈگری چوری تو نہیں ؟ کم از کم وہی ڈگریاں عوام میں جاری کردی جائیں جو امیت شاہ اور ارون جیٹلی نے 2016 میں جاری کی تھیں۔ بہار میں شہریت ثابت کرنے اور فہرست رائے دہندگان میں نام کی شمولیت کیلئے لاکھوں افراد سے دسویں اور بارھویں کے تعلیمی سرٹیفکٹس اور والدین کے برتھ سرٹیفکٹس طلب کئے جارہے ہیں۔ دوسروں کے سرٹیفکٹس طلب کرنا نجی معاملہ نہیں اور مودی کی ڈگری کا افشاء نجی معاملہ کیسے ہوگا ؟ عوام تو ثبوت کے طور پر ڈگری مانگ رہے ہیں لیکن جن کو عوام کے لئے مثالی بننا چاہئے ، وہ ڈگری کو چھپا رہے ہیں۔ الیکشن میں مسلم خواتین کے حجاب اُٹھاکر ان کی بے پردگی کرنا منظور ہے حالانکہ حجاب خواتین کا نجی معاملہ ہے ۔ اپوزیشن اور جہد کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ وزیراعظم کے عہدہ کیلئے قابلیت کی کوئی شرط نہیں لیکن دنیا کو دکھانے کیلئے ووٹ چوری کی طرح ڈگری چوری کی گئی ۔ اقتدار کسی کا مستقل نہیں ہوتا اور جب بھی حکومت تبدیل ہوگی ڈگری کا سچ سامنے ضرور آئے گا۔ ایک سیاسی مبصر نے کیا خوب کہا ہے کہ ملک کے تمام قوانین بی جے پی کو بچانے اور اپوزیشن کو پھنسانے کے کام آرہے ہیں۔
سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ لاپتہ ہیں۔ تقریباً 40 دن ہوگئے جگدیب دھنکڑ کو کسی نے نہیں دیکھا۔ دھنکڑ کس حال میں ہیں ، کوئی ان سے مل کیوں نہیں سکتا اور وہ سامنے کیوں نہیں آتے؟ یہ سوالات نہ صرف سیاسی بلکہ عوامی حلقوں میں گشت کر رہے ہیں۔ 21 جولائی کو پارلیمنٹ سیشن کے مانسون اجلاس کے پہلے دن جگدیپ دھنکڑ نے اچانک استعفیٰ کا اعلان کردیا اور دوسرے دن وزارت داخلہ نے استعفیٰ کی توثیق کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ سابق چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار 6 ماہ قبل عہدہ سے سبکدوش ہوئے اور وہ بھی دھنکڑ کی طرح لاپتہ ہیں۔ ایسے وقت جبکہ ملک میں 2024 عام انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر سوال اٹھائے جارہے ہیں ، راجیو کمار ان سوالات کا جواب دینے کیلئے منظر عام پر نہیں آئے۔ سابق گورنر جموں و کشمیر ستیہ پال ملک نے حکومت سے متعلق بعض سچائیوں کو بے نقاب کیا اور ان کے خلاف مقدمہ کی تیاری کی گئی ۔ ستیہ پال ملک ہاسپٹل میں زیر علاج رہے اور ان کا دیہانت ہوگیا۔ ملک میں اس بات کو لے کر بحث جاری ہے کہ جو شخص اہم عہدوں پر رہتے ہوئے حکومت کا ساتھ دے گا اسی کو جینے کا حق ہے بھلے ہی زندگی گمنامی کی کیوں نہ ہو۔ ملک میں حکومت کا مزاج ڈکٹیٹرشپ سے بھی آگے نکل چکا ہے ۔ جگدیپ دھنکڑ کے بارے میں میڈیا میں کئی اطلاعات گشت کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ جگدیپ دھنکڑ حکومت کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہے تھے اور انہیں خرابیٔ صحت کے عنوان پر جبراً استعفیٰ کے لئے مجبور کیا گیا۔ دھنکڑ نے اپنا استعفیٰ خود نہیں لکھا بلکہ تیار شدہ استعفیٰ پر دستخط کرنا پڑا۔ صدر جمہوریہ کے سکریٹریٹ میں آر ٹی آئی کے جہد کار نے جگدیپ دھنکڑ کے بارے میں سوال کیا جس پر صدر جمہوریہ کی آفس نے لاعلمی کا اظہار کیا اور وزارت داخلہ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ دنوں جگدیپ دھنکڑ کے پراسرار غائب ہونے کے معاملہ پر خاموش ہیں۔ ایک ٹی وی چیانل نے جب امیت شاہ سے جگدیپ دھنکڑ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بات کا بتنگڑ نہ بنانے اور اس معاملہ کو طول دے کر کسی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش سے میڈیا کو گریز کا مشورہ دیا۔ امیت شاہ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ جانتے ہیں کہ جگدیپ دھنکڑ کہاں ہے یا پھر یہ بتاسکتے تھے کہ ان کی صحت کیسی ہے۔ ملک میں آزادی کے بعد شائد یہ پہلا موقع ہے جب کسی نائب صدر جمہوریہ سے جبراً استعفیٰ حاصل کیا گیا ہو۔ اگر وہ واقعی بیمار ہیں تو ہیلت بلیٹن جاری کیوں نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف ’’ووٹ چور گدی چھوڑ‘‘ نعرہ کے ساتھ بہار میں راہول گاندھی کی یاترا نے بی جے پی کے حلقوں میں شکست کا خوف پیدا کردیا ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بہار میں راہول گاندھی کی بَہار کا سیزن چل رہا ہے۔ راہول گاندھی نے ملک کے دیگر علاقوں میں ووٹ چوری کی تفصیلات عنقریب جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے حلقہ وارانسی میں ووٹ چوری کو بے نقاب کیا جائے گا۔ وارانسی کے پانچ اسمبلی حلقوں میں صرف دو میں نریندر مودی کو اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ ووٹ چوری کیلئے سب سے پہلے الیکشن کمیشن کو قانون کے ذریعہ تحفظ فراہم کیا گیا۔ کوئی بھی شخص چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا جس کے لئے لوک سبھا میں قانون سازی کردی گئی ۔ حکومت سے تحفظ ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے باقاعدہ حکومت کے ایجنٹ کا رول ادا کیا ہے۔ ندیم شاد نے کیا خوب کہا ہے ؎
امیر شہر کا نشہ اترنے والا ہے
ہمارے جسم کا اک زخم بھرنے والا ہے