جگن حکومت کے خلاف امیت شاہ اور نڈا کا اچانک سخت موقف

   

چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کے بعد سیاسی صورتحال تبدیل، جگن کی مشکلات میں اضافہ
حیدرآباد ۔12 ۔ جون (سیاست نیوز) تلگو ریاستوں میں بی جے پی کے استحکام کے لئے اعلیٰ قیادت نے توجہ مرکوز کی ہے ۔ آندھراپردیش میں گزشتہ چار برسوں کے دوران برسر اقتدار وائی ایس آر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان خوشگوار تعلقات رہے۔ جگن موہن ریڈی نے پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کے قوانین اور فیصلوں کی تائید کی جس کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا کہ آئندہ عام انتخابات میں دونوں پارٹیاں مفاہمت کرسکتی ہیں۔ صدر تلگو دیشم این چندرا بابو نائیڈو کی گزشتہ دنوں امیت شاہ سے ملاقات کے بعد آندھراپردیش میں سیاسی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ اسی دوران امیت شاہ نے وشاکھاپٹنم میں بی جے پی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانیوں اور بدامنی کے لئے آندھراپردیش شہرت رکھتا ہے ۔ جگن موہن ریڈی حکومت کرپشن سے پُر ہے اور سماج میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ مرکز میں بی جے پی حکومت کے 9 سال کی تکمیل کے موقع پر جلسہ عام منعقد کیا گیا تھا۔ امیت شاہ کی آمد سے ایک دن قبل بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے بھی جگن حکومت کو کرپٹ قرار دیا تھا۔ دونوں قومی قائدین کی سخت تنقیدوں سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات وائی ایس آر کانگریس کے لئے چیلنج رہیں گے ۔ بتایا جاتاہے کہ بی جے پی نے تلگو دیشم اور جنا سینا کے ساتھ مفاہمت کا من بنالیا ہے۔ امیت شاہ نے آندھراپردیش کے کسانوں کی بھلائی کی ریاست قرار دینے پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت میں بدعنوانیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی اسکیمات کو ریاستی اسکیمات کا رنگ دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پرائم منسٹر کسان یوجنا کے تحت کسانوں کے اکاؤنٹ میں 6000 کروڑ روپئے جما کئے لیکن جگن موہن ریڈی اسے رعیتو بھروسہ اسکیم کی امدادی رقم قرار دے رہے ہیں۔ مرکزی اسکیم پر جگن نے اپنی تصویر چسپاں کردی ہے۔ امیت شاہ کے مطابق 2009 تا 2014 ء مرکز کی یو پی اے حکومت نے آندھراپردیش کو 78 ہزار کروڑ کی گرانٹ منظور کی تھی جبکہ بی جے پی حکومت نے ابھی تک آندھراپردیش کو 10 لاکھ کروڑ کا فنڈ مختص کیا ہے۔ انہوں نے مرکز کی گرانٹ سے آندھراپردیش میں مختلف پراجکٹس پر عمل آوری کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے آندھراپردیش کی عوام سے اپیل کی کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں آندھراپردیش کی 20 نشستوں پر بی جے پی کو کامیاب کریں۔ر