جگن حکومت کے معطل کردہ آئی آر ایس آفیسر کو راحت

   

معطلی منسوخ، مرکز کوواپسی کیلئے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کی اجازت
امراوتی۔/26 فبروری، ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے صدر اور آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے انتہائی قریبی بااعتماد اور منظورِ نظر انڈین ریونیو سرویسیس ( آئی آر ایس ) آفیسر جاستی کرشنا کشور کو اپنی معطلی کے خلاف جاری لڑائی میں آج بڑی راحت ملی جب مرکزی ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے ریاستی وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت کی طرف سے ان کی معطلی کے احکام کو منسوخ کردیا۔ ٹریبونل نے منگل کو اس ضمن میں احکام جاری کردیئے اور یہ حکم بھی دیا کہ کرشنا کشور کو مرکزی خدمات کیلئے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم ٹریبونل نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ آئی آر ایس آفیسر کے خلاف جگن موہن ریڈی حکومت کی طرف سے دائر کردہ رشوت ستانی اور بدعنوانیوں کے مقدمات بدستور برقرار رہیں گے اور حکومت قانون کے مطابق ان مقدمات کو جاری رکھ سکتی ہے۔ جگن موہن ریڈی حکومت نے کرشنا کشور کو سابق تلگودیشم حکومت کے دور میں اے پی اکنامک ڈیولپمنٹ بورڈ ( اے پی ای ڈی بی ) کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے اپنی میعاد کے دوران رشوت ستانی اور تغلب کے الزامات کے تحت معطل کردیا تھا۔ کرشنا کشوران افسران میں شامل تھے جنہوں نے وائی ایس جگن موہن ریڈی کے اشاعت گھر جگتی پبلی کیشنس کی آمدنیوں کا تخمینہ کیا تھا اور 2010 کے دوران جگتی پبلی کیشنس پر 122.78 کروڑ کا بھاری ٹیکس عائد کیا تھا۔ محکمہ انکم ٹیکس نے پریمیم شرحوں پر جگتی پبلی کیشنس کے حصص کی فروخت کی تحقیقات بھی کی تھی۔