اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے عہدہ کی شرط افسوسناک
حیدرآباد۔/28 جولائی، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی کی صدر وائی ایس شرمیلا نے سابق چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا موقف دیئے جانے کے بعد ہی ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے سے متعلق جگن کا اعلان شرمناک ہے۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائی ایس شرمیلا نے لکھا کہ یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اسمبلی میں قائد اپوزیشن کا عہدہ ملنے کے بعد ہی قدم رکھنے کی بات کہی ہے۔ ان کا یہ بیان دراصل لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ اقتدار کے دوران وائی ایس جگن موہن ریڈی نے غرور و تکبر کا مظاہرہ کیا تھا اور عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے عہدہ کیلئے ضروری تعداد ہونی چاہیئے۔ عوام نے اسمبلی کیلئے منتخب کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی کو مسائل پیش کرنے کی ذمہ داری دی ہے ایسے میں اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرنا عوام کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جگن موہن ریڈی کا یہ فیصلہ جمہوریت کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ ایم ایل اے کا مطلب ممبر آف لیجسلیٹیو اسمبلی ہے نہ کہ ممبر آف میڈیا اسمبلی۔ عوام نے ایوان میں مسائل پیش کرنے کیلئے اسمبلی کیلئے منتخب کیا ہے لیکن جگن موہن ریڈی میڈیا تک محدود ہوچکے ہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں میں بے قاعدگیاں اور لوٹ کے ذریعہ ریاست کو مقروض بنادیا گیا۔آپ اپنے محل میں بیٹھ کر میڈیا سے بات کررہے ہیں جبکہ عوام نے اس کام کیلئے منتخب نہیں کیا، آپ کی حکومت پر تنقید کا جواب اسمبلی میں رہ کر دیا جائے۔ شرمیلا نے کہا کہ عوامی مسائل پر ایوان میں آواز اُٹھانے کی ذمہ داری رکن اسمبلی کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ موقف سے وائی ایس جگن موہن ریڈی اپوزیشن لیڈر کی نہیں بلکہ رکن اسمبلی کے عہدہ کیلئے بھی نااہل ہیں انہیں اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دینا چاہیئے۔ شرمیلا نے کہاکہ عوام کی رائے کا احترام کرنے کے بجائے اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے شرائط رکھنا افسوسناک ہے۔1