وائی ایس آر کانگریس کو اقلیتوں کی فکر، بی آر ایس کو یکساں سیول کوڈ مسودہ کا انتظار
حیدرآباد۔/23 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو یکساں سیول کوڈ سے متعلق قانون سازی کیلئے راجیہ سبھا میں دشوار کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہے لہذا اسے علاقائی جماعتوں کی تائید پر انحصار کرنا ہوگا جو اگرچہ این ڈی اے میں شامل نہیں ہیں لیکن مسائل کی بنیاد پر مودی حکومت کی تائید کررہی ہیں۔ آندھرا پردیش کی برسراقتدار وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے یکساں سیول کوڈ کی تائید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں وائی ایس آر کانگریس کے 9 ارکان ہیں اور جگن موہن ریڈی کے فیصلہ سے بی جے پی کو بل کی منظوری میں دشواری ہوگی۔ وائی ایس آر کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ یکساں سیول کوڈ بی جے پی کا نظریاتی ایجنڈہ ہے اور ان کی پارٹی مخالف اقلیت کسی بھی فیصلہ کی تائید نہیں کرے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مسائل کی بنیاد پر دفعہ 370 کی برخاستگی، زرعی بل اور دہلی سرویسس بل کی تائید کی گئی تھی لیکن یکساں سیول کوڈ کی تائید ممکن نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وائی ایس آر کانگریس کے علاوہ اوڈیشہ کی بیجو جنتا دل نے بھی یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ این ڈی اے کی حلیف جماعتوں نیشنل پیوپلز پارٹی، میزو نیشنل فرنٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی نے یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں تین نئے بلز پارلیمنٹ میں متعارف کئے ہیں جن میں آئی پی سی قوانین میں تبدیلی اور چیف الیکشن کمشنر کے تقرر سے متعلق بلز شامل ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں حکومت کی دلچسپی کا اظہار کیا تھا لیکن لاء کمیشن کی جانب سے عوامی رائے حاصل کرنے کے بعد حکومت کو کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ دوسری طرف یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر تلنگانہ کی برسراقتدار بی آر ایس نے ابھی تک کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مرکز کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کا مسودہ پیش کرنے کے بعد ہی تائید یا مخالفت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مسودہ کا جائزہ لئے بغیر فیصلہ کرنا جلد بازی ہوگی۔ واضح رہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی قیادت میں مذہبی رہنماؤں کے وفد نے چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کی اور یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کی اپیل کی تھی۔ چیف منسٹر نے علماء کو تیقن دیا لیکن پارٹی کی سطح پر کسی فیصلہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یکساں سیول کوڈ کے بارے میں مسلمانوں میں بے چینی کے باوجود کے سی آر مخالفت کا اعلان کرنے سے گریزاں ہیں۔ سیکولرازم اور مسلمانوں سے ہمدردی کے دعوے کرنے والی بی آر ایس حکومت کے غیر واضح موقف سے مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ہے۔
