تلگو دیشم کی بڑھتی مقبولیت سے الجھن، تلگو دیشم ، پون کلیان اور بی جے پی میں مفاہمت کا امکان
حیدرآباد ۔یکم جون (سیاست نیوز) کرناٹک چناؤ کے بعد تلنگانہ میں جس طرح انتخابی ماحول گرم ہوا ہے اس کا اثر پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں دیکھا جارہا ہے۔ برسر اقتدار وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ اور چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اپوزیشن بالخصوص تلگو دیشم کی سرگرمیوں میں اضافہ کے پیش نظر وسط مدتی انتخابات پر ماہرین سے تجاویز طلب کی ہے۔ حالیہ چند ماہ میں تلگو دیشم سربراہ این چندرا بابو نائیڈو اور ان کے فرزند نارا لوکیش نے حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو اضلاع کے دورہ پر ہیں جبکہ نارا لوکیش طویل پد یاترا کے ذریعہ عوام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ آندھراپردیش میں بی جے پی کے استحکام کے لئے قومی قائدین مساعی کر رہے ہیں لیکن راست ٹکراؤ وائی ایس آر کانگریس اور تلگو دیشم کے درمیان ہے۔ جگن موہن ریڈی حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کو ووٹ میں تبدیل کرانے کی چندرا بابو نائیڈو کی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پون کلیان نے چندرا بابو نائیڈو سے مفاہمت کا اشارہ دیا ہے۔ جگن سے متحدہ طور پر مقابلہ کے مقصد سے چندرا بابو نائیڈو اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی سے مفاہمت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان حالات میں جگن موہن ریڈی کو متحدہ اپوزیشن کا سامنا کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق جگن موہن ریڈی نے اپنے حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر پرشانت کشور سے ملاقات کی ۔ بہار کی سیاست میں شمولیت تک پرشانت کشور تلنگانہ میں کے سی آر اور آندھراپردیش میں جگن موہن ریڈی کے لئے کام کر رہے تھے۔ پرشانت کشور کے ادارہ آئی پیاک نے دونوں ریاستوں میں اپنی سرگرمیوں کو مسدود کردیا ہے ۔ جگن موہن ریڈی نے پرشانت کشور سے آندھراپردیش میں وسط مدتی چناؤ کی صورت میں پارٹی کے امکانات کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے پرشانت کشور کو دوبارہ وائی ایس آر کانگریس کیلئے کام کرنے کی خواہش کی ۔ آئی پیاک کی ٹیم نے آندھراپردیش کے 175 اسمبلی حلقوں میں عوامی رائے جاننے کی کوشش کی ۔ اس سلسلہ میں جگن موہن ریڈی کو رپورٹ حوالے کی گئی ہے ۔ جگن چاہتے ہیں کہ پرشانت کشور کی ٹیم کو تلنگانہ میں دوبارہ متحرک کیا جائے ۔ ٹیم نے سفارش کی تھی کہ 2024 ء اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بیشتر حلقہ جات کے امیدواروں کو تبدیل کردیا جائے۔ ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر ٹکٹ الاٹ کیا جائے ۔ نئی دہلی میں پرشانت کشور سے جگن کی ملاقات کے بعد آندھراپردیش اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ متحدہ اپوزیشن سے مقابلہ کیلئے تلنگانہ کے ساتھ اگر آندھراپردیش کے اسمبلی انتخابات کرائے جائیں تو جگن کو اپریل ۔مئی میں لوک سبھا انتخابات پر مکمل توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ر