جھڑپ میں چینی فوج کا بھی جانی نقصان ، کوئی بیان جاری نہیں

   

وادی گلوان۔17 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی شب چینی فوج کے ساتھ وادی گلوان میں ہوئی سرحدی جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے 17 ہلاک ہوگئے ہیں جس سے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی کل تعداد 20 ہوگئی ہے۔ہندوستانی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جھڑپ پیر کی شب متنازعہ وادی گلوان کے علاقے میں ہوئی جہاں فریقین کی افواج کی پسپائی کا عمل جاری تھا۔فوجی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس جھڑپ میں چینی فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم چینی حکام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان موجودہ کشیدگی کی تین اہم وجوہات کیا ہیں2017 میں ڈوکلام کے علاقے میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان مکے بازی، ہاتھا پائی اور ایک دوسرے سے سامان چھیننے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور کئی دنوں بعد حالات معمول پر آئے تھے۔ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات کی تاریخ ویسے تو دہائیوں پرانی ہے لیکن حالیہ کشیدگی کی تین وجوہات سمجھ آتی ہیں۔پہلی وجہ سٹریٹجک ہے۔ یہ دو ایسے پڑوسی ہیں جن کی فوجوں کی تعداد دنیا میں پہلے اور دوسرے نمبر پر بتائی جاتی ہے اور جن کے درمیان اختلاف اور تنازعات کی ایک لمبی تاریخ ہے۔اس بار بھی وہی علاقہ تنازعے کا مرکز ہے جہاں 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے اور چین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں اس نے بازی ماری تھی۔
گذشتہ چند برسوں میں بھارت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں تیزی سے کیے جانے والے تعمیراتی کام کو بھی تنازعے کی بڑی وجہ بتایا جاتا ہے۔