’جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے‘ : عامر علی خان

   

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ،رجوع الی اللہ کی بھی تلقین

حیدرآباد ۔20 جنوری ( سیاست نیوز) موجودہ حالات اس بات کی ضمانت ہے کہ عوام نے مذہبی اور سیاسی قائدین پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے ۔اب عوام خود ایک سیول تحریک بن گئے ہیں اور ملک کو بچانے کمربستہ ہوگئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر’سیاست‘ نے کیا ۔ وہ آج اندرا پارک پر ینگ انڈیا کی جانب سے شہریت قانون کے خلاف منعقدہ احتجاجی پروگرام سے مخاطب تھے ۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد کو مخاطب کرتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہا کہ’ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے‘ ۔ انہوں نے نوجوان نسل کو حالات سے مایوس نہ ہونے کا درس دیتے ہوئے رجوع الی اللہ ہونے کی تلقین کی اور ظالم بادشاہ کے خلاف رجوع الی اللہ کا واقعہ سنایا اور بتایا کہ ایک ظالم بادشاہ سے نجات کیلئے ایک شہری نے تقویٰ اختیار کیا اور اس نے جنگل کا رُخ کیا اور اپنے مسئلہ کو اللہ سے رجوع کرکے ایک ہزار مرتبہ درود شریف کا ورد کیا اور جب وہ واپس آبادی پہنچا تو اللہ کا فیصلہ آگیا تھا کہ وہ ظالم بادشاہ ہلاک ہوگیا تھا ۔ جناب عامر علی خان نے احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور دین سے دوری کا بھی محاسبہ کا مشورہ دیا اور کہا کہ ظالموں کے ظلم سے نجات کیلئے رجوع الی اللہ وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔انہوں نے نوجوانوں سے خواہش کی کہ وہ روزانہ ذکر اذکار کو اپنی زندگی کا معمول بنالیں ۔ انہوں نے مرکز اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ملک میں ہماری حب الوطنی پر کوئی شک نہیں کرسکتا ، مسلمان حب الوطنی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے بلکہ روزآنہ 5وقت نماز میں ماتھا ٹیک کر وطن کی مٹی سے محبت اور وابستگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون این آر سی اور این پی آر کے ذریعہ حکومت شہروں کو جیل بنانا چاہتی ہے اور اپنے 30فیصد ووٹ بینک کو محفوظ کرنے انہیں خوفزدہ کیا جارہا ہے اور باقی کے ووٹ بٹ جائیں ۔ انہوںنے کہا کہ 40کروڑ دلت و 20کروڑ مسلمان اصل نشانہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ملک بھر میں تناؤ اور بے چینی کا ماحول ہے اور ملک شدت سے قانون کی مخالفت کی جارہے ایسے وقت وزیر داخلہ کا بیان ہے کہ وہ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے ، تشویش کا باعث ہے ۔ انہوں نے اس بیان کو اپنے انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ اکڑ سب میں ہوتی ہے ، جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے‘ ۔