جھیلوں اور تالابوں کے تحفظ سے حیدرآباد کی جامع ترقی کا منصوبہ

   

متاثرہ خاندانوں کو مکانات کی فراہمی، آلودگی پر کنٹرول ضروری : ریونت ریڈی

حیدرآباد ۔10 ۔ مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ اور جھیلوں اور تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کو ڈبل بیڈروم مکانات کے علاوہ مناسب معاوضہ دیا جائے گا ۔ ریونت ریڈی نلا چیروو جھیل کے تحفظ کے بعد حیڈرا کے ترقیاتی کاموں کا وہ افتتاح کر رہے تھے۔ حیڈرا نے شہر اور اس کے اطراف جھیلوں اور تالابوں کے قریب غیر مجالس قبضوں کو برخواست کرتے ہوئے جھیلوں کی بحالی کے اقدامات کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نظام دور حکومت میں تعمیر کردہ جھیلوں کے تحفظ کے ذریعہ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر آب کے تحفظ کے ذریعہ نہ صرف آبی ضرورتوں کی تکمیل ہوگی بلکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حیدرآباد کے تحفظ اور اس کی ترقی میں حکومت سے تعاون کریں۔آؤٹر رنگ روڈ حدود میں شہر کی آبادی 1.34 کروڑ ہوچکی ہے ۔ آنے والی نسلیں ہمیںجھیلوں اور تالابوں کے عدم تحفظ پر معاف نہیں کریں گی۔حکومت سڑکوں کی توسیع اور فلائی اوورس کی تعمیر کے ذریعہ ٹریفک سسٹم کو بہتر بنانے کی مساعی کر رہی ہے ۔چیف منسٹر نے واضح کیا کہ ذخائر آب اور جھیلوں کے آبگیر علاقہ میں غیر مجاز تعمیرات کی ہرگز اجازت نہیں رہے گی۔چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت ہمیشہ غریبوں کے مفادات کاتحفظ کرتی رہی ہے۔ ذخائر آب کے اطراف غیر مجاز تعمیرات سے بارش کا پانی تالاب کے بجائے مکانات میں داخل ہوگا جس کے نتیجہ میں نقصانات کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے جھیلوں کے تحفظ سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت سے رجوع ہوں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر عوام تعاون کرتے ہیں تو حیدرآباد کے تمام ذخائر آب کا تحفظ کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ حیدرآباد کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ دہلی ، ممبئی ، بنگلور اور چینائی جیسے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ موسیٰ ندی کو 55 کلو میٹر تک ترقی دیتے ہوئے دونوں جانب تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا ۔ کمشنر حیڈرا رنگناتھ نے جھیلوں کے تحفظ کی تفصیلات سے واقف کرایا اور کہا کہ مقامی عوام کا تعاون حاصل ہے۔1