جہاں جہاں ایس آئی آر، وہاں وہاں ووٹ چوری: راہول گاندھی

   

نئی دہلی، 24 جنوری ( ایجنسیز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی مستقل ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ پریس کانفرنس کرکے کئی بار ووٹ چوری سے متعلق ثبوت بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اس معاملہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے بلکہ راہول گاندھی اور کانگریس کے ذریعہ عائد کردہ الزامات پر ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اب راہول گاندھی نے ایکس پر ایک پوسٹ جاری کر کے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جہاں جہاں ایس آئی آر، وہاں وہاں ووٹ چوری۔گجرات میں ایس آئی آر‘ کے دوران گڑبڑی کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں، اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہول گاندھی نے یہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’گجرات میں ایس آئی آر کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی طرح کا انتظامی عمل نہیں ہے، یہ منصوبہ بند، منظم اور حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ووٹ چوری ہے۔سب سے حیرت انگیز اور خطرناک بات یہ ہے کہ ایک ہی نام سے ہزاروں ہزار اعتراض درج کیے گئے۔راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ خاص طبقات اور کانگریس حامی بوتھوں کے ووٹ چن چن کر کاٹے گئے۔ جہاں بھی بی جے پی کو شکست نظر آتی ہے وہاں ووٹر سسٹم سے غائب کر دیے جاتے ہیں۔ یہ پیٹرن آلند میں نظر آیا، یہی راجورا میں ہوا اور اب وہی بلو پرنٹ گجرات، راجستھان اور ہر اس ریاست میں نافذ کیا جا رہا ہے جہاں ایس آئی آر تھوپا گیا ہے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ایس آئی آر کو ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے آئینی حق کو ختم کرنے کے اسلحہ میں بدل دیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے تاکہ عوام نہیں، بی جے پی طے کرے کہ اقتدار میں کون رہے گا۔ آخر میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہول گاندھی لکھتے ہیں کہ سب سے سنگین حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اب جمہوریت کا محافظ نہیں بلکہ اس ووٹ چوری کی سازش کا اہم شراکت دار بن چکا ہے۔