جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا

   

مہاراشٹرا … ٹیپو سلطان کے نام پر نفرتی سیاست
راہول گاندھی کو دھمکی… مودی ، امیت شاہ خاموش

رشیدالدین
’’میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو‘‘ ملک میں بی جے پی کا کچھ یہی حال ہے۔ ملک کی تاریخ کو بی جے پی اور سنگھ پریوار کے قائدین اپنی عینک سے نہ صرف دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ دنیا کو بھی وہی دکھانے میں یقین رکھتے ہیں جو ان کی نفرتی عینک دکھاتی ہے۔ ہندوتوا نظریات کو عوام پر مسلط کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا اصل ایجنڈہ ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار نے جدوجہد آزادی کی تاریخ کو تبدیل کردیا ہے اور مجاہدین آزادی کے دیش دروہی ہونے اور حب الوطنی کے سرٹیفکٹ جاری کئے جارہے ہیں۔ صورتحال اس قدر ابتر ہوچکی ہے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی نظر میں مجاہدین آزادی کی قربانیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ انگریزوں کے لئے جاسوسی کرنے والے اور ان سے معافی مانگنے والوں کو مجاہد آزادی اور دیش بھکت کے طور پر پیش کرتے ہوئے سماج میں مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی جارہی ہے۔ شیر میسور ٹیپو سلطان کے نام پر مہاراشٹرا میں سیاست گرم ہوچکی ہے۔ ٹیپو سلطان پر تنازعہ کرناٹک تک محدود تھا اور اب مہاراشٹرا بھی اس کی زد میں ہے۔ جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مالیگاؤں کی ڈپٹی میئر کے چیمبر میں ٹیپو سلطان کی تصویر آویزاں کی گئی۔ نفرتی عناصر نے ٹیپو سلطان کی مخالفت میں مورچہ کھول دیا ہے اور مسلمانوں کو برا بھلا کہا جارہا ہے۔ اسے ملک کی بدقسمتی کہئے یا پھر بی جے پی کی مجبوری کہ انگریزوں کی غلامی تسلیم کرنے سے انکار کرنے والے ٹیپو سلطان کو ہندو دشمن اور انگریزوں کو 11 مرتبہ معافی نامی لکھنے والے ونائک دامودر ساورکر کو فریڈم فائٹر کہا جارہا ہے ۔ بی جے پی قائدین شائد بھول رہے ہیںکہ کرناٹک کے سابق چیف منسٹر یدی یورپا نے ٹیپو سلطان کی انگریزوں کے خلاف بہادری کی تعریف کی تھی۔ نفرتی عناصر کو کوئی دستور ہند کی کتاب پیش کرے جس میں ملک کے دیگر سورماؤں کے ساتھ ٹیپو سلطان کی تصویر کو شائع کیا گیا۔ حیدر علی کے انتقال کے بعد 1782 ء میں میسور کے حکمراں بننے والے ٹیپو سلطان نے 1799 ء میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔ انگریزوں پر ٹیپو سلطان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ مورخین نے لکھا ہے کہ انگریز اپنے بچوں کو ڈرانے کیلئے ٹیپو کے نام کا استعمال کرتے تھے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ٹیپو سلطان کے خلاف مراٹھا نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومتوں کے مقرر کردہ صدور جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور رامناتھ کووند نے انگریزوں سے ٹیپو سلطان کی لڑائی کی نہ صرف تعریف کی بلکہ انہیں میزائیل ٹکنالوجی کا موجد قرار دیا تھا ۔ افسوس کہ ساورکر اور گوڈسے کے وارثین نے مسلم حکمرانوں کے خلاف جو ماحول تیار کیا ہے ، اس کے پس پردہ حکمرانوں کی سرپرستی کا اہم رول ہے۔ جدوجہد آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں کے بغیر ادھوری ہے ۔ انگریزوں کے جاسوس اور معافی مانگنے والوں کو ہیرو اورٹیپو سلطان کو ویلن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ 1911 سے 1920 کے درمیان ساورکر نے جیل سے انگریزوں کو 11 معافی نامے روانہ کئے تھے ۔ انگریزوں سے وفاداری کے معاہدہ کے بعد ساورکور کو جیل سے رہا کیا گیا اور 2024 میں رہائی کے بعد ساورکر نے خود کو اپنے آبائی مقام رتناگیری تک محدود کرلیا تھا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ 1942 ء میں عوام کو انگریزوں کی تائید کی ترغیب ساورکر نے دی تھی۔ مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے سنگھ پریوار نے حب الوطنی کے پیمانہ پر تبدیل کردیئے ہیں۔ ٹیپو سلطان کا تقابل شیواجی سے کیا جارہا ہے جو بقول سنگھ پریوار ہندو سماج کے محافظ تھے۔ تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شیواجی کی فوج کے 22 کمانڈرس میں 13 مسلمان تھے۔ آرمی چیف کا نام دولت خاں بتایا جاتا ہے ۔ شیواجی کے شخصی محافظ کا نام تاریخ نے سدی ابراہیم خاں کے طور پر درج کیا ہے۔ شیواجی کو ایک مرتبہ ہلاک کرنے کی سازش کی گئی تو ابراہیم خاں نے جان بچائی تھی۔ ٹیپو سلطان اور اورنگ زیب کی فوج کے کمانڈرس میں کئی ہندو نام شامل ہیں۔ تاریخ کو لاکھ مسخ کرنے کی سازش کی جائے لیکن عوام کی اکثریت کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مساجد ، مدارس ، درگاہوں اور مکانات پر بلڈوزر کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شائد ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں مسلمانوں پر مظالم کا کوئی وا قعہ نہ ہو۔ ان واقعات کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کرنا ہے اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ہندوستان میں دوسرے درجہ کے شہری اور اکثریتی طبقہ کے احسان تلے دبے ہیں۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اچھے دن کا نعرہ لگاکر اقتدار حاصل کرنے والے نریندر مودی نفرتی عناصر پر کنٹرول میں بے بس دکھائی دے رہے ہیں ۔ جن ریاستوں سے فرقہ پرستی کو ہوا دی گئی آج ان ریاستوں میں عوام نفرتی مہم سے عاجزد آچکے ہیں۔ نریندر مودی کی ریاست گجرات کے مسلم کش فسادات کے بعد بی جے پی کا عروج ہوا تھا ۔ اسی طرح رام مندر کے مسئلہ پر اترپردیش میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا لیکن آج دونوں ریاستوں میں بی جے پی کا داخلی انتشار آر ایس ایس کے لئے درد سر بن چکا ہے ۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اترپردیش میں اعلیٰ اور پسماندہ طبقات کے ٹکراؤ کو ختم کرنے کیلئے مصنوعی ذہانت کا رول ادا کر رہے ہیں۔ دہلی اور لکھنو کے درمیان ٹکراؤ کے علاوہ شنکر اچاریہ اور یوگی ادتیہ ناتھ میں تنازعہ شدت اختیار کرچکا ہے۔ شنکر اچاریہ نے یوگی کو تبدیل کرنے کی مہم چھیڑ دی ہے اور دونوں ڈپٹی چیف منسٹرس اس مہم کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ موہن بھاگوت نے یوگی ادتیہ ناتھ کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر سے بات چیت کی اور اترپردیش میں ہندوتوا نظریات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ بی جے پی اعلیٰ قیادت آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل یوگی ادتیہ ناتھ کے متبادل کی تلاش میں مصروف ہے تاکہ کسی نئے چہرہ کی قیادت میں اسمبلی الیکشن کا سامنا کیا جائے ۔ اترپردیش اور گجرات میں 2027 میں اسمبلی انتخابات ہیں اور دونوں ریاستوں سے مودی ۔امیت شاہ جوڑی کو چیلنج مل رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ نئی دہلی میں آلودگی کی صورتحال پر یوگی ادتیہ ناتھ کے تبصرہ سے بغاوت کی بو آرہی ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے دہلی کو گیس چیمبر قرار دیا ۔ یہ طئے کرنا ضروری ہے کہ ادتیہ ناتھ کے لئے نئی دہلی گیس چیمبر آلودگی کے سبب ہے یا پھر سیاسی گیس چیمبر بچ چکا ہے۔ بی جے پی میں یوگی کے متبادل کے مسئلہ پر مباحث جاری ہیں۔ نریندرمودی کی سرپرستی اور تائید کا فائدہ اٹھاکر یوگی دہلی کی کرسی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ مودی کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کا خود کو واحد دعویدار تصور کر رہے ہیں۔ یوگی کے یہ تیور مودی کے وزیر باتدبیر اور بی جے پی کے چانکیہ امیت شاہ کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔
راہول گاندھی سے بی جے پی کا خوف دن بہ دن انتقامی کارروائیوں کی شکل میں منظر عام پر آرہا ہے۔ راہول گاندھی کو پارلیمنٹ اور اس کے باہر اظہار خیال سے روکنے اور ان کی آواز دبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ لوک سبھا کی رکنیت ختم کرنے کی ناکام کوشش کے بعد لوک سبھا میں اظہار خیال سے روکا گیا ۔ صدر جمہوریہ کے خطبہ پر راہول گاندھی کو تقریر کی اجازت نہیں دی گئی۔ راہول گاندھی جب بھی زبان کھولتے ہیں ، حکومت کی کمزوریاں اور ناکامیاں اجاگر ہوتی ہیں ۔ مودی حکومت دراصل سچ کا سامنا کرنے تیار نہیں ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں خصوصی نظر ثانی کی مہم SIR میں بے قاعدگیوں کو ثبوت کے ساتھ عوام میں پیش کیا۔ فوج کے سابق سربراہ جنرل نروانے کی کتاب سے چین کی افواج سے مقابلے سے دامن بچانے کے لئے 56 انچ کا سینہ رکھنے والے نریندر مودی کے موقف کو بے نقاب کرنے کی کوشش کو روکا گیا ۔ جب آواز دبانے میں بی جے پی ناکام رہی تو اس نے جان سے مارنے کی دھمکیاں شروع کردی ہیں۔ راجستھان سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کارکن نے نریندر مودی اور اسپیکر لوک سبھا اوم برلا کی تصاویر کے ساتھ ویڈیو تیار کیا جس میں اوم برلا کی توہین پر راہول گاندھی اور کانگریس کے 25 ارکان پارلیمنٹ کو گھر میں گھس کر گولی مارنے کی دھمکی دی۔ تاریخ میں شائد یہ پہلا موقع ہے جب لیڈر آف اپوزیشن کو کھلے عام گولی مارنے کی دھمکی دی جارہی ہے ۔ لیکن بی جے پی اور حکومت نے کارروائی تو کجا مذمت تک نہیں کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی خاموشی پر گودی میڈیا میں سناٹا طاری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی سرپرستی کے تحت راہول گاندھی کو دھمکی دی گئی تاکہ ان کی سرگرمیوں کو محدود کیا جاسکے۔ اگر دھمکی دینے والے کا تعلق بی جے پی سے نہیں ہے تو پھر پارٹی خاموش کیوں ہے؟ گودی میڈیا کے کالو اور گلو کے علاوہ پاپا کی پریاں بھی اپنا ضمیر بیچ کر نریندر مودی کے گن گان میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر وسیم بریلوی نے کیا خوب کہا ہے ؎
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا