سفاکانہ قتل،کیا عدالتوں کو بند کردیا جائے، سیول سوسائٹی کا سوال
حیدرآباد۔/7 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے جہد کاروں، وکلاء اور سیول سوسائٹی کے ارکان نے دشا قتل کے ملزمین کے انکاؤنٹر کو سفاکانہ قتل قرار دیا۔ انسانی حقوق کے جہد کاروں نے پولیس کے رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ پولیس نے تمام مروجہ قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ہے۔ کلپنا کنا بیرن جو سیول لبرٹیز کے جہد کار آنجہانی کے جی کنا بیرن کی دختر ہیں سب سے پہلے انکاؤنٹر کی مذمت کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہمیں عدالتوں کو بند کرتے ہوئے اس طرح کی ہلاکتوں کا خاموشی سے مشاہدہ کرنا چاہیئے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ انکاونٹرس میں انصاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ صرف طاقت کا ایک مظاہرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول لیڈی وٹرنری ڈاکٹر کی یادوں کے ساتھ بدخدمتی کی گئی ہے۔ ہیومن رائیٹس فورم نے انکاؤنٹر میں حصہ لینے والے تمام پولیس عہدیداروں اور ملازمین کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ ہیومن رائیٹس فورم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی جانی چاہیئے کیونکہ تلنگانہ پولیس پر اس معاملہ میں غیر جانبداری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے تلنگانہ میں سابق میں پولیس تحویل میں ہلاکتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسمبر 2008 کو ورنگل میں ایسیڈ حملہ کے تین ملزمین کو قتل کردیا گیا تھا۔ اکٹوبر 2007 کو بینک آف اندور کے منیجر کے قتل میں ملوث دو افراد کو شہر کے نواحی علاقوں میں انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا۔ ان دونوں واقعات میں پولیس نے حفاظت خود اختیاری کا فرضی بہانہ بنایا تھا۔ یہ تمام ہلاکتیں پولیس کے مبینہ طور پر قتل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح کی ہلاکتیں خواتین کو کس طرح محفوظ کرسکتی ہیں اور خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام ایک طویل اور پیچیدہ جدوجہد ہے جسے خاندانوں اور سماج کی سطح پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہیومن رائیٹس فورم کے ریاستی صدر جی مادھو راؤ نے کہا کہ خاطیوں کو ہلاک کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ قانون داں وسودھا ناگراج نے کہا کہ پولیس کی اس طرح کی حرکتوں سے عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔ اس طرح کے قتل سے خواتین کو کوئی راحت نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کیلئے یہ ایک افسوس کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اسی طرح اپنے اختیارات کا استعمال کرتی رہی تو کیا تمام ملزمین کو نکال کر قتل کردیا جائے گا؟۔ اسی دوران مہیلا سنگم کی صدر دیوی نے دشا قتل کے ملزمین کے انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں ان تمام کے ملزمین کو انکاؤنٹر کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجمل قصاب جیسے دہشت گرد کو بھی انکاؤنٹر میں ہلاک نہیں کیا گیا۔ دیوی نے کہا کہ ملک میں 80 ایم پی اور ایم ایل اے مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں انہیں کیوں چھوڑ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے انکاؤنٹر میں حصہ لینے والے پولیس والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گے۔