احمد آباد کی عائشہ بانو کی خود کشی کا واقعہ مسلم معاشرہ کے لیے المناک
آگرہ ۔ گجرات کے شہر احمد آباد میں 23 سالہ عائشہ بانو کی خود کشی کے واقعہ نے سارے ملک کو صدمہ سے دوچار کردیا ہے ۔ شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے جہیز ہراسانی سے دل برداشتہ ہو کر عائشہ نے سابرمتی میں چھلانگ لگا کر خود کشی کی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد آگرہ کے مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ مسلم شادیوں میں جہیز کی لعنت کو ختم کردیں گے ۔ آگرہ کے مسلمانوں نے مسلم طبقہ کے تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ جہیز لینے اور دینے کے چلن کو یکسر ختم کردیں ۔ آگرہ کی ایک مقامی مسجد میں منعقدہ جلسہ میں علماء کرام اور مسلم شخصیتوں نے خصوصی دعا کرتے ہوئے اپیل کی کہ مسلم شادیوں کو سادگی سے انجام دیں اور جہیز کی لعنت ختم کردیں ۔ اجلاس میں عائشہ بانو کی مغفرت کے لیے دعا کی ۔ حافظ محمد یحییٰ خان نے کہا کہ اسلام میں جہیز کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے عمل کریں اور آج کے دن یہ عہد کریں کہ وہ قطعی طور پر جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے ۔ ہندوستانی برادری تنظیم کے سکریٹری ضیا الدین نے کہا کہ آگرہ کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ نہ جہیز لیں گے اور نہ ہی دیں گے ۔ احمد آباد میں عائشہ بانو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ آئندہ ہماری کسی بھی بیٹی کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔ جس دن سے ہم اپنی بہوؤں کو بیٹیاں سمجھیں گے اس دن سے خودبخود جہیز کی لعنت ختم ہوجائے گی اور جہیز کے لیے ہراسانی کے واقعات بھی ختم ہوجائیں گے ۔ جمعیتہ القریش کے صدر محمد شریف کہا کہ عائشہ کو اس کے شوہر اور سسرال والوں نے شدید اذیت دی تھی اس طرح کے لوگوں پر قانون کا شکنجہ کستے ہوئے سخت سزائیں دی جانی چاہئے ۔ بھارتیہ مسلم ویکاس پریشد کے چیرمین سمیع آغائی نے کہا کہ ان کی تنظیم نے مقامی مسلمانوں میں جہیز کی لعنت کے خلاف ورقیہ تقسیم کئے ہیں ۔جس میں اپیل کی گئی ہے کہ مسلمانوں کو جہیز لینے سے گریز کرنا چاہئے ۔۔