واشنگٹن، 5 فروری (یو این آئی) ایف بی آئی کے ایک خفیہ مخبر نے کہا ہے کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرچکے تھے کہ بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین اسرائیلی جاسوس تھا۔ یہ بات ایک سرکاری دستاویز میں درج ہے جو گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف نے لاکھوں صفحات کے ساتھ جاری کی۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس مخبر جسے خفیہ انسانی ماخذ (سی ایچ ایس) قرار دیا گیا ہے اس نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے وکیل ایلن ڈرس شاوِٹز نے اُس وقت کے جنوبی ضلعِ فلوریڈا کے امریکی اٹارنی الیکس اکوسٹا سے کہا کہ ایپسٹائن امریکہ اور حلیف خفیہ اداروں دونوں سے تعلق رکھتا تھا۔ “سی ایچ ایس نے ڈرس شاوِٹز اور ایپسٹین کے درمیان فون کالز شیئر کیں۔ ان کالز کے بعد موساد ڈرس شاوِٹز کو بریفنگ کے لیے فون کرتی تھی۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود بارک کے قریب تھا اور ان کے تحت ایک جاسوس کی تربیت حاصل کی تھی,”دستاویز مزید بتاتی ہے کہ بارک “سمجھتے تھے کہ نیتن یاہو ایک مجرم ہیں اور مخبرقائل ہو گیا کہ ایپسٹین موساد کا ایجنٹ تھا، جس کا ذکر علاقائی حریفوں اور اس پر اسرائیل کے اثرات کے پس منظر میں کیا گیا ہے ۔