گوہاٹی : /10 فبروری (ایجنسیز) ہیمنت بسوا سرما نے منگل کو کہا کہ وہ کسی ایسی ویڈیو سے واقف نہیں ہیں جس کا تذکرہ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنی ایف آئی آر میں کیا ہے ، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ضرورت پڑنے پر جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ معاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آسام اکائی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو سے شروع ہوا، جس میں مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ٹوپی پہنے دو افراد پر انتہائی قریب سے گولیاں چلاتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔ اگرچہ بعد میں اس ویڈیو کو ہٹا دیا گیا، لیکن مسٹراویسی نے اسی ویڈیو کے تناظر میں حیدرآباد میں ہیمنت بسوا سرما کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مسٹر سرما نے کہا، ”مجھے ایسی کسی ویڈیو کی معلومات نہیں ہیں، تاہم اگر انہوں نے ایف آئی آر درج کرائی ہے تو میں جیل جانے کو تیار ہوں۔ اگر میرے خلاف کوئی کیس ہے تو پولیس کو آ کر مجھے گرفتار کرنا چاہیے ۔ میں اس پر اعتراض کیسے کر سکتا ہوں؟ میں جیل جانے کو تیار ہوں۔” انہوں نے مزید کہا، ”لیکن میں اپنی کہی ہوئی بات پر قائم ہوں۔ میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ہوں اور مستقبل میں بھی ان کے خلاف کھڑا رہوں گا۔” قابل ذکر ہے کہ اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے باعث بی جے پی کو اسے حذف کرنا پڑا۔ ویڈیو ہٹانے کی وجہ بتاتے ہوئے آسام پردیش بی جے پی کے صدر دلیپ سیکیا نے وضاحت کی کہ ویڈیو اس لیے ہٹائی گئی کیونکہ اس کی غلط تشریح کی جا رہی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے ۔