رامپور۔8 ڈسمبر ۔ ( ایجنسیز) سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی طبیعت ہفتہ کو اچانک بگڑ گئی، جس کے بعد جیل انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ ضابطے کے مطابق طبی معائنہ کرانے کے لیے ضلع اسپتال کے دو ڈاکٹر جیل پہنچے، لیکن اعظم خان نے جسمانی جانچ کرانے سے انکار کر دیا، جس کے باعث دونوں ڈاکٹر بغیر علاج کیے ہی واپس لوٹ گئے۔ ذرائع کے مطابق جنرل فزیشن ڈاکٹر حسیب اور سرجن ڈاکٹر عارف رسول ہفتے کی صبح جیل اسپتال پہنچے تھے تاکہ اعظم خان کی حالت کا تفصیلی جائزہ لے سکیں۔ مگر جیل حکام کے مطابق، اعظم خان نے سختی سے معائنہ کروانے سے منع کر دیا۔ جمعہ کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر نے ان کے آنکھوں کا معائنہ کیا تھا، جس کے بعد سے ان کی صحت مزید نازک بتائی جا رہی ہے۔اعظم خان پہلے سے ہی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل جانے سے قبل نئی دہلی کے اسپتال میں زیرِ علاج بھی رہ چکے ہیں۔ جیل انتظامیہ کے مطابق انہیں باقاعدگی سے ادویات دی جا رہی ہیں، تاہم گزشتہ دو دن سے ان کا مزاج اور صحت مسلسل بگڑتی ہوئی محسوس کی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے چند روز قبل اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اعظم خان اس وقت دو پیان کارڈ رکھنے کے مقدمے میں سات سال کی سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو دو پاسپورٹ بنوانے کے مقدمے میں اتنی ہی مدت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان معاملات پر جیل انتظامیہ نے فی الحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔