عادل آباد ۔ عادل آباد سابق صدر مجلس و سابق نائب صدر بلدیہ فاروق احمد کو جیل کے عہدیداروں نے انہیں مشتبہ حالت میں مستقر عادل آباد کے Rims دواخانہ منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت کو محسوس کرتے ہوئے بغرض علاج حیدرآباد منتقل کردیا ۔ جیل حکام نے میڈیا کو بتایا کہ فاروق احمد ایک رسی کی مدد سے خودکشی کی کوشش کر رہے تھے ۔ وارڈن کی بروقت مداخلت پر یہ واقعہ رونما نہ ہوسکا ۔ اسی کشمش کے دوران اس کے سر پر چوٹ لگی جبکہ فاروق احمد کے افراد خاندان نے مقامی ٹی آر ایس قائد پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے جیل میں فاروق احمد کو طرح طرح کی ذہنی و جسمانی اذیتیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اقدام خودکشی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں فاروق احمد کو قتل کرنے کی سازش تھی جس کو خودکشی کارنگ دیا جارہا ہے ۔ فاروق احمد کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور ان کے منہ سے کف جاری تھا ۔ ایسی تشویشناک صورت میں حیدرآباد دواخانہ منتقل کیا گیا ۔ واضح رہے کہ تین ماہ قبل 18 ڈسمبر کو ایک جھگڑے کے دوران مجلس بلدیہ فاروق احمد نے اپنے ریلوالور کا استعمال کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے تین افراد پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں سابق رکن بلدیہ سید ضمیر دوران علاج حیدرآباد میں فوت ہوچکے تھے۔ اس کیس میں ملوث ہونے کے بناء پر وہ محروس تھے ۔ سوشیل میڈیا پر بڑی تیزی کے ساتھ یہ بے بنیاد خبر گشت کر رہی ہے کہ حیدرآباد روانگی کے دوران فاروق احمد کی موت واقع ہوچکی ہے ۔