خالصتان 2020 تک بن جائے گا، سکھ برادری کا دعوی
جینوا/3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) خالصتان 2020 میں دنیا کے نقشہ پر ابھر کر رہے گا۔ یہ بات امریکہ، برطانیہ سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ کمیونٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرے کے دوران کہی۔ یورپ بھر میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے بھی ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سکھ کمیونٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مقیم اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ 88 روز سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور کرفیو نافذ کر کے لوگوں کو گھروں میں محصور کر رکھاہے۔ خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے اور بچوں پر بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، بھارت کی اپوزیشن جماعتوں سمیت کسی کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کیا جائے اور غیر ملکی مبصرین کو وہاں جانے کی اجازت دی جائے اور وہاں جانے کے حوالے سے جو رکاوٹیں ہیں وہ ختم کرائی جائیں۔ فرانس سے بھی معروف کشمیری رہنما زاہد اقبال ہاشمی کی قیادت میں ایک وفد نے مظاہرے میں شرکت کی اور سکھوں کو مکمل تعاون اور یکجہتی کا یقین دلایا۔ جوانوں کے ساتھ خواتین، بچوں اور بوڑھوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔
