جیون ریڈی کانگریس سے مستعفی، پارٹی میں توہین پر 42 سالہ وابستگی ختم

   

جگتیال میں پارٹی حامیوں کا اجلاس، ریونت ریڈی کے فیصلوں کی مخالفت

حیدرآباد ۔25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر ٹی جیون ریڈی نے آخرکار پارٹی سے اپنی 42 سالہ وابستگی ختم کرتے ہوئے استعفیٰ کا اعلان کردیا۔ جگتیال سے تعلق رکھنے والے جیون ریڈی گزشتہ چند ماہ سے پارٹی میں نظر انداز کئے جانے کی شکایت کر رہے تھے۔ جگتیال سے منتخب بی آر ایس کے رکن اسمبلی سنجے کمار کو کانگریس میں شامل کرلیا گیا جس کے بعد سے جیون ریڈی پارٹی قیادت سے ناراض تھے۔ انہوں نے صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کی اپیل کو نظر انداز کرتے ہوئے آج اپنے حامیوں کے اجلاس میں کانگریس سے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ جیون ریڈی نے استعفیٰ کا مکتوب پارٹی قیادت کو روانہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی میں مزید توہین برداشت نہیں کرسکتے۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کو اپنے مکتوب میں جیون ریڈی نے استعفیٰ کی وجوہات بیان کیں۔ جگتیال میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی میں حقیقی قائدین کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنے قریبی افراد کو عہدے عطا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر چنا ریڈی ، وی ہنمنت راؤ ، ومشی چند ریڈی جیسے سینئر قائدین کو نظر انداز کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ رکن راجیہ سبھا کے طور پر چیف منسٹر کے قریبی نریندر ریڈی کا انتخاب کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کٹر حامی گنگا ریڈی کا قتل کردیا گیا لیکن چیف منسٹر نے مہلوک خاندان کو پرسہ تک نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ جگتیال کے عوام کی بھلائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ سابق میں چندرا بابو نائیڈو اور کے سی آر کا مقابلہ کرچکے ہیں اور ریونت ریڈی سے مقابلہ کوئی بڑی بات نہیں۔ جیون ریڈی نے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا تاہم اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ علحدہ طور پر عوام کیلئے جدوجہد کریں گے۔1