لندن : انڈیا میں کل جی ۔ 20 کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن سمیت عالمی رہنما اکٹھے ہوئے، لیکن بلاک کے اہم ممبر اور چین کے صدر شی جن پنگ کی عدم شمولیت سے سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ میڈیا کے مطابق 2008 کے مالی بحران کے تناظر میں جی 20 کا قیام ہوا تھا تاکہ عالمی معیشت کو بہتر کیا جا سکے، لیکن حالیہ برسوں کے دوران ممبران میں نااتفاقی بڑھی ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ ان کے آپسی جھگڑوں سے کشمکش بڑھے گی اور عوام کے اعتماد میں کمی آئے گی۔ان کا دہلی میں میڈیا کے ساتھ گفتگو میں کہنا تھا کہ اگر ہم واقعی ایک عالمی فیملی ہیں تو ہم آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔جی۔ 20 کانفرنس شروع ہونے سے قبل ہی اس کی اہمیت پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب چینی صدر شی جن پنگ نے اس میں خود شرکت کرنے کے بجائے اپنے وزیراعظم لی چیانگ کو بھیج دیا۔ شی جن پنگ کے شرکت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، لیکن انڈیا اور چین سرحدی تنازعہ سمیت مختلف معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے زور دیا کہ ’ملکوں کو اس بات سے بالاتر ہو کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ نئی دہلی میں صدر آ رہا ہے یا نائب صدر آ رہا ہے۔لیکن جی ۔ 20 کانفرنس میں شامل ممالک کا کسی ایک مشترکہ بیان پر متفق نہ ہونا میزبان ملک انڈیا کے لیے باعث شرمندگی ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اس کانفرنس کو اپنے ملک کی سفارتی کامیابی اور وقار میں اضافہ کے طور پر پیش کیا ہے۔یوکرین کے حوالے اس کانفرنس میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آتی۔ جنگی جرائم کے الزامات نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو اس سمٹ سے دور رکھا ہے۔برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ ’پوتن سفارتی ناکامی کے خود ذمہ دار ہیں۔ جی 20 کے ممبران کہہ رہے ہیں کہ ہم مل کر پوتن کی طرف سے پھیلائی گئی تباہی کو ٹھیک کریں گے۔